تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 134
۱۳۴ (۳) مکرم قاضی منیر احمد صاحب پرنٹر یه مقدمه ۱۶ جنوری ۱۹۹۴ء کو زیر نمبر ۱۱/۱۵ ربوہ تھا نہ میں ڈپٹی کمشنر جھنگ کی طرف سے ماہنامہ انصار اللہ “ جون ۱۹۹۳ء کے شمارہ پر زیر دفعہ ۲۹۸ سی درج ہوا۔۲۴ جنوری ۱۹۹۴ء کو ایڈیشنل سیشن جج چنیوٹ جناب سلیم قریشی صاحب نے عبوری ضمانت قبول کی۔اس کی کنفرمیشن کے لئے سے فروری ۱۹۹۴ء کی تاریخ جناب اختر نقی نقوی ایڈیشنل سیشن جج نمبر ۲ چینوٹ نے دی۔فروری کو جناب نقوی صاحب نے روزنامہ ”الفضل ربوہ کے مقدمہ کے ساتھ یہ ضمانتیں بھی منسوخ کر دیں اور پانچ احباب کو چنیوٹ جیل بھجوا دیا جو ایک ماہ تک جیل میں رہے۔ان خوش نصیبوں کے نام یہ ہیں۔(۱) مکرم مولا نانسیم سیفی صاحب ایڈیٹر الفضل (۲) مکرم آغا سیف اللہ صاحب مینیجر و پبلشر الفضل (۳) مکرم مرزا محمد دین صاحب ناز مدیر ماہنامہ انصار الله (۴) مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب پبلشر ماہنامہ انصار الله (۵) مکرم قاضی منیر احمد صاحب پر نٹر الفضل“ و ”ماہنامہ انصار الله چنیوٹ جیل کے مفصل حالات ہفت روزہ ” الفضل انٹر نیشنل لندن مورخه ۲۶ تا ۸ اگست ۱۹۹۶ء میں شائع ہو چکے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کا مکتوب مبارک اسیران کے نام حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا: پیارے عزیزان آغا سیف اللہ ، مرزا محمد الدین صاحب قاضی منیر اح محمد ابراہیم صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کی فیکس ملی۔الحمد للہ۔مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسیرانِ راہ مولیٰ کی صف میں شامل ہونے کی سعادت بخشی۔حوصلہ، ہمت اور دعاؤں سے اسیری کے دن کاٹنے کی توفیق بخشی۔ساری جماعت کی طرف سے آپ یہ قربانی پیش کر رہے تھے۔اس لئے سب کا فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں کا سہارا لیتے۔اس مشکل وقت میں خواجہ سرفراز صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جس رنگ میں تدابیر سے کام کیا ہے ، وہ بھی خراج تحسین اور دعاؤں کے مستحق ہیں۔محترم سیفی صاحب نے تو جیل میں بھی اپنی شاعرانہ صلاحیتوں سے قوم کو گرمایا ہے اور داد وصول کی ہے۔ان کے لئے بھی میں فکر مند تھا کیونکہ اس عمر میں صعوبتیں اٹھا نا سہل امر نہیں ہے۔سب ہی شاباش اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی نسلوں کو بھی ان نیکیوں کا فیض پہنچائے۔سب کو عید مبارک اور محبت بھرا سلام۔“