تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 94
۹۴ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبداللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی کی تو اس وقت مفتی صاحب کی عمر اکیس سال تھی۔اس وقت انہوں نے حضور کی خدمت میں خط لکھا: ایسے وقت میں حضور کو مجھ جیسے نالائق اور نابکار کے خط پڑھنے کی فرصت کہاں ہو گی۔مگر میری طبیعت نے مجبور کیا ہے۔اب ایک بے نظیر نشان کے پورا ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔میں اپنی تمام دعاؤں اور خواہشوں کو ترک کر کے دن رات خداوند کے حضور میں یہی دعا کر رہا ہوں کہ اے رحمن رب تیرے بندے ضعیف اور کوتاہ اندیش ہیں۔ایسے وعدے کو تو کھلے کھلے طور سے پورا کرتا کہ لوگ اپنی نادانی سے تیرے فرستادہ کا انکار کر کے اپنے گلوں میں لعنت کا طوق نہ ڈال لیں میرا ایمان حضور کی صداقت پر پختہ ہے اور اسے ہرگز کوئی جنبش بفضلہ تعالیٰ نہیں۔۔۔حضور مجھے اپنا غلام اور جوتیوں خادم سمجھیں اور دعا سے یا درکھیں۔محمد صادق مفتی مدرس انگریزی جموں کالج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کا ذکر کئی جگہ بڑے پیار سے کیا ہے۔ایک جگہ لکھا: میں نے خواب میں تھی اخویم محمد صادق کو دیکھا ہے اور قبل اس کے جو میں اس خواب کی تفصیل بیان کروں۔اس قدر لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ مفتی محمد صادق میری جماعت میں سے اور میرے مخلص دوستوں میں سے ہیں۔یہ اپنے نام کی طرح پاک محبت صادق ہیں۔وہ ہمیشہ میری دینی خدمات میں نہایت جوش سے مصروف ہیں۔خدا ان کو جزائے خیر دے۔اب خواب کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے مفتی صاحب موصوف کو خواب میں دیکھا کہ نہایت روشن اور چمکتا ہوا چہرہ ہے۔اور ایک لباس فاخرہ جو سفید ہے پہنے ہوئے ہیں اور ہم دونوں ایک بگھی میں سوار ہیں اور وہ لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی کمر پر میں نے ہاتھ رکھا ہوا ہے۔یہ خواب ہے اور اس کی تعبیر جو خدا نے میرے دل میں ڈالی ہے۔یہ ہے کہ صدق جس سے میں محبت رکھتا ہوں ایک چمک کے ساتھ ظاہر ہو گا اور جیسا کہ میں نے صادق کو دیکھا ہے کہ اس کا چہرہ چمکتا ہے۔اسی طرح وقت وہ قریب ہے کہ میں صادق سمجھا جاؤں گا اور صدق کی چمک لوگوں پر پڑے گی۔،، (۴۰)۔“ حضرت مفتی صاحب کو تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے آپ کو پہلے یورپ اور المسیح پھر امریکہ میں تبلیغ کے لئے بھجوایا جہاں آپ چار سال کے قریب خدمات بجالاتے رہے۔آپ امریکہ مشن کے بانی تھے۔آپ ایک صاحب الہام اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔