تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1028
۱۰۲۸ لئے مقامی احباب سے رابطہ کیا۔اس اجتماع میں شامل ہونے والے مردوں کی کل تعدادا یک سوا کنتیس تھی جن میں سے پینتیس انصار تھے۔مبلغین نے نہ صرف مختلف علمی اور ورزشی مقابلوں میں حصہ لیا بلکہ ریفری کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔اجتماع کا پہلا اجلاس مکرم بنسن صاحب امیر جماعت ڈنمارک کی زیر صدارت شروع ہوا۔تلاوت ، عہد اور نظم کے بعد نیشنل قائد صاحب خدام الاحمدیہ نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کا روح پرور پیغام پڑھ کر سنایا۔بعد ازاں زعیم اعلیٰ صاحب انصار اللہ نے محترم صدر صاحب انصار اللہ مرکزیہ کا پیغام پڑھا۔صدرا جلاس نے تمام حاضرین کا شکر یہ ادا کیا اور تمام پروگراموں میں دلچسپی سے حصہ لینے کی تلقین فرمائی۔اس کے بعد دوڑ سو میٹر ، دوڑ چار سو میٹر لمبی چھلانگ، گولہ پھینکنا اور کلائی پکڑنے کے ورزشی مقابلے ہوئے۔نماز ظہر وعصر کے بعد فٹ بال اور میروڈ بہ کے مقابلے ہوئے۔ان مقابلوں میں انصار نے بھی دلچسپی سے حصہ لیا۔طعام کے بعد سکول ہال میں ملکی عہدیداران کا اجلاس منعقد ہوا۔جس میں اہم مشورے ہوئے۔دعوت الی اللہ کے کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا نیز اسے مزید وسیع کرنے کی تدا بیرسوچی گئیں۔ہر سال ایک اجتماع منعقد کرنے کی تجویز ہوئی۔آخر میں مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی۔جس میں مربیان کرام نے احباب کے سوالات کے جوابات دیئے۔طعام پر بعض ڈینش غیر از جماعت دوست بھی مدعو تھے۔انہوں نے بھی سوالات کئے۔نماز مغرب وعشاء پر یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔دوسرے روز کی کارروائی کا آغاز نماز تہجد اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد درس قرآن اور درس حدیث سے ہوا۔ناشتہ کے بعد اجلاس کی کارروائی سکول ہال میں شروع ہوئی۔تلاوت و نظم کے بعد درج ذیل علمی مقابلے ہوئے: تلاوت قرآن کریم ، اذان، نظم، تقریر، زبانی و تحریر امتحان دینی معلومات۔نماز ظہر وعصر کے بعد اختتامی اجلاس اولین مبلغ مکرم مولانا سید کمال یوسف صاحب کی زیر صدارت شروع ہوا۔تلاوت ، عہد اور نظم کے بعد ہر سہ ممالک کے زعماء اعلیٰ نے اپنے اپنے ملک کی رپورٹ کارگزاری پیش کی۔بعد ازاں مکرم نوح سونیڈ بنسن صاحب نے اپنی تقریر میں ایسے مواقع سے صحیح رنگ میں استفادہ کرنے کی طرف توجہ دلائی اور ایسی تجاویز بتائیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر اجتماع کے معیار کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں مکرم سید کمال یوسف صاحب نے سکنڈے نیوین ممالک میں جماعت احمدیہ کی ابتدائی تاریخ پر روشنی ڈالی نیز تراجم کے ضمن میں مکرم عبد السلام میڈسن صاحب کی گرانقدر خدمات کا تذکرہ کیا۔سالانہ رپورٹس مرتب کرنے کے بارے میں ہدایات دیں اور اسیران راہ مولیٰ اور درویشان قادیان کے لئے دعا کی تحریک کی۔بعدہ آپ نے انعامات تقسیم کئے اور پھر ایک لمبی دعا کروائی۔اس طرح یہ اجتماع بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔