تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 964 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 964

۹۶۴ دوسرے کی خاطر قربان کر دیا جائے لیکن اگر عمومی طور پر ساری جماعت کو بار بار ان کے فرائض بتا کر یہ سوچنے لگیں کہ آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا اور پھر اس سے غافل ہو جائیں تو میں سب کو یہی بتایا کرتا ہوں کہ اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔جماعتی تنظیم کے کاموں میں جب بھی مجھے ناکامی کا مشاہدہ کرنا پڑا اس کا واحد سبب یہی بات ہوتی تھی کہ جب میں نے دریافت کیا کہ فلاں کام کیوں نہیں ہوا تو سوائے شاذ کے یہی جواب ملا کہ حضور ہم نے تمام افراد تک پیغام پہنچا دیا تھا اور اُن کی ذمہ داری بھی بتا دی تھی لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔اس لئے کہ آپ سب تک پیغام پہنچا کر اس کام سے لا تعلق ہو گئے۔آپ نے اس کام کا پیچھا نہیں کیا۔آپ نے پیغام پہنچا کر یہ سمجھ لیا کہ آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا اور اس پر آپ خوش ہو گئے۔ایسی پیغام رسانی اور ایسی نصائح کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔اصل طریق یہ ہے کہ سب کو نصیحت کریں اور پھر اس کام کے ساتھ ایک دلی وابستگی پیدا کر لیں۔پہلے ایک حصہ جماعت کو منتخب کریں اور اُنہیں بطور نمونہ تیار کر دیں۔علاوہ ازیں جب آپ لوگوں کو کوئی نصیحت کریں تو ایک قلبی تعلق کے ساتھ بات کریں اور اگر بالفرض وہ اپنا فرض ادا نہ کریں تو انہیں آپ کے چہرے پر گہرے رنج کے آثار نظر آنے چاہئیں اور جب وہ آپ کو نصیحت کرتے ہوئے سنیں تو انہیں معلوم ہو کہ آپ اپنے دل و دماغ کی گہرائیوں سے بات کر رہے ہیں اور انہیں آپ کی قلبی کیفیت کی روشنی اور حرارت محسوس ہونی چاہئے اور اس کے بعد وہ مشاہدہ کریں کہ آپ نے عملی طور پر اپنے آپ کو اس کام کے لئے وقف کر دیا ہے اور آپ نے اپنی طرف سے انتہائی کوشش کر دی ہے۔اگر آپ اس طریق سے کام کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں کو آپ کی توقع سے بھی بڑھ کر ثمر آور کر دے گا۔انسان کے پاس چونکہ وقت محدود ہوتا ہے اس لئے ایک وقت میں چند افراد کو ہی منتخب کر کے ان کی تربیت کرنی چاہئے اور اس کام کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ لوگوں کو داعی الی اللہ بنانے کا کام ایسا نہیں کہ آپ کو مستقل طور پر ان لوگوں پر توجہ رکھنی پڑے۔جب آپ نے چندلوگوں کو داعی الی اللہ بنا دیا اور وہ بذاتِ خود کام کرنے کے قابل ہو گئے تو پھر آپ پر ان کا کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔کیونکہ خواہ آپ ان کو بھول جائیں تب بھی وہ داعی الی اللہ ہی رہیں گے۔جو لوگ ایک دفعہ تبلیغ کا مزہ چکھ لیتے ہیں پھر وہ کبھی اس کام کو ترک نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اس نشہ کے عادی ہو جاتے ہیں۔پس یہ ایک بہت مفید اصول ہے کہ آپ صبر و قتل سے پہلے چندلوگوں میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں تبلیغ کرنے کی اُمنگ پیدا کر دیں۔اس کے بعد پھر اپنی توجہ چند اور افراد کی طرف منتقل کریں ، کچھ لوگ یہاں ، کچھ لوگ وہاں۔کچھ لوگ اس سال کچھ لوگ اگلے سال۔اس طرح آپ مسلسل نتائج پیدا کرتے چلے جائیں گے۔نیچے پانچ دس سال کے عرصہ میں انشاء اللہ تعالی تمام ممبران مجلس انصار اللہ موثر طور پر اللہ کے راستہ میں تبلیغ کرنے والی ایک فوج بن سکتی ہے اور اگر ایسا ہو۔اگر چہ یہ اگر بظاہر مشکل نظر آتا ہے لیکن جتنا بڑا آپ اپنے کو سمجھتے ہیں۔در حقیقت آپ اس سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔تبلیغ کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود آپ پر ڈالی ہے۔اس لئے یقینا اس نے کوئی خوبی دیکھ کر ہی آپ کو اس ذمہ داری کا