تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 963
۹۶۳ ہے لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی خاطر یہ کام کرو گے تو بڑی سے بڑی مخالفت اور دشمنی تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے، میں تمہاری حفاظت کروں گا، تم سے محبت کروں گا اور انجام کار تمام اطراف سے تم ہی دشمن کے علاقوں کو فتح کرنے والے ہو گے۔یہ وہ ضمانت ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہے اور ہم میں سے ان لوگوں نے جنہوں نے تبلیغ کا کام کیا ہے ،انہوں نے اس الہی وعدہ کو اپنی زندگیوں میں پورا ہوتے خود مشاہدہ کیا ہے۔خدا تعالی ہی ہے جو انجام کار ہر نقصان سے ہمیں محفوظ رکھتا ہے ، اس وعدہ کی وجہ سے جو اس نے تبلیغ اسلام کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔دوسری بات جو بہت اہم ہے اور آپ کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہئے ، وہ یہ ہے کہ تبلیغ کا کام کوئی بے لذت کام نہیں ہے بلکہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔جو لوگ ایک دفعہ تبلیغ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر ان کے ذریعہ کوئی شخص ہدایت پا جاتا ہے۔کوئی یہاں کوئی وہاں۔ایسے شخص سے ذرا دریافت تو کیجئے اور اس کی خوشی اور راحت کا مشاہدہ تو کیجئے۔ایک دفعہ آپ مبلغ بن جائیں پھر دیکھئے آپ کس طرح اس نشہ کے عادی ہو جاتے ہیں اور پھر بڑے سے بڑا دباؤ بھی آپ کو تبلیغ سے ہر گز روک نہیں سکے گا۔ایسی حالت میں آپ کو کسی یاد دہانی کروانے والے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ آپ خود دوسروں کو نصیحت کرنے لگ جائیں گے کہ آؤ اور ہمارے ساتھ تبلیغ کے جہاد میں شامل ہو جاؤ۔تبلیغ کا عمل اپنے اندر مسلسل پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک منظم جد و جہد کے ساتھ آپ کچھ افراد کو کامیاب طور پر مبلغ بنا دیتے ہیں تو پھر وہ آپ پر کوئی بوجھ نہیں رہیں گے۔تبلیغ کی اپنی لذت ہی اُنہیں اس کام میں مصروف رکھے گی اور پھر آپ اپنی توجہ مزید لوگوں کی طرف کرسکیں گے۔یہی وہ بات ہے جو میں آخر میں کہنا چاہتا ہوں اور تبلیغ کے کام کو منظم کرنے کے لئے یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے۔عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب بھی مجلس خدام الاحمدیہ مجلس انصار اللہ یا کوئی اور تنظیم کسی کام کو منظم کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو بجائے اس کے کہ پہلے چند افراد کا انتخاب کر کے انہیں تربیت دی جائے ، ساری جماعت کو بیک وقت تربیت دینا شروع کر دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔مثلاً اگر بیک وقت تمام احمد یوں کو مبلغ بننے کی تلقین کریں گے تو نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا کیونکہ عمومی طور پر کسی کو تبلیغ کرنا یا مبلغ بنے کی تلقین کرنا کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوتا جب تک چند افراد کو منتخب کر کے با قاعدہ طور پر ان پر پوری توجہ مبذول نہ کی جائے۔اصل بات یہ ہے کہ نصیحت دو طور پر کرنی چاہئے۔ایک عمومی نصیحت جو سب کو کی جائے جیسے فوج میں دور مار والی بمباری بھی بہت ضروری ہوتی ہے لیکن فتح حاصل کرنے کے لئے سپاہیوں کی مدد سے مخصوص علاقہ پر قبضہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔یہ ایک نہایت اہم اصول ہے جس پر عمل کر کے میں نے اپنے جماعتی فرائض کی ادائیگی میں ہمیشہ بہت فائدہ اٹھایا ہے۔بے شک آپ تمام افراد جماعت کو عمومی تلقین کریں کہ تبلیغ کا کام بہت اہم ہے لیکن آپ خصوصی توجہ صرف اتنے ہی لوگوں پر دیں جن کو آپ واقعی داعی الی اللہ بنا سکتے ہیں۔یہ دونوں کام بیک وقت ہونے چاہئیں۔نہ یہ کہ ایک کام کو