تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 960
۹۶۰ اراکین ہوتے ہیں اور قوموں کی اصلاح کے کام کا آغاز خاندان کی اصلاح سے ہوتا ہے۔اس لئے بھی انصار اللہ زیادہ ذمہ دار بن جاتے ہیں۔کسی بھی زاویہ سے دیکھیں ، آپ کی عمر کے لوگ زیادہ ذمہ دار، زیادہ اثر انگیز اور زیادہ جواب دہ ثابت ہوتے ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر زیادہ ذمہ داریاں ڈالی ہیں اس لئے اگر آپ انہیں صحیح طور پر ادا کرنے میں ناکام ہوں گے تو زیادہ جواب دہ بن جاتے ہیں۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مسلسل دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو کھینچنے کی کوشش کرتے رہو۔اس پس منظر میں میں آپ کو ایک نہایت اہم ذمہ داری کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جس کے متعلق میرا خیال تھا کہ آپ اس ذمہ داری کو جماعت احمدیہ کی باقی تنظیموں کی نسبت زیادہ بہتر رنگ میں ادا کریں گے۔وہ اہم ذمہ داری غیر احمدیوں اور غیر مسلموں کو تبلیغ کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔چند سال قبل پاکستان میں جب میں نے یہ کام شروع کیا تو اس کے بہت حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے۔اگر چہ کسی شخص کو ایسا مبلغ بنانا جو دوسروں کے عقیدہ کو بدل سکے ایک مشکل کام ہے لیکن قوموں کی ترقی اور اعلیٰ نتائج کے حصول کے لئے صبر و استقلال سب سے اہم ہتھیار ہوتے ہیں۔پس جب ہم نے کام کا آغاز کیا تو آہستہ آہستہ مجلس عاملہ کی مدد اور ان کے صبر و استقلال کے ساتھ ہم کام کو تیز کرنے کے قابل ہو گئے۔یہاں تک کہ بہت جلد مجلس خدام الاحمدیہ نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ مجلس انصار اللہ نے انہیں اس میدان میں شکست دے دی ہے۔حالانکہ پہلے مجلس خدام الاحمدیہ اس کام میں مجلس انصار اللہ سے آگے تھی کیونکہ ان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق وہ ہر سال کچھ نہ کچھ بیعتیں کروالیتے تھے لیکن انصار اللہ کے ریکارڈ میں کوئی بیعت نہ تھی لیکن جب کوشش کر کے سب مجالس انصار اللہ سے مکمل رپورٹیں منگوائیں تب بھی یہی معلوم ہوا کہ کوئی شخص اس نہایت اہم کام کی طرف متوجہ نہ تھا۔پس با وجود اس کے کہ انصار اللہ تبلیغ کے کام میں خدام الاحمدیہ سے پیچھے تھی پھر بھی دو تین سالوں کے اندراندر خدا تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصار اللہ مجلس خدام الاحمدیہ سے آگے نکل گئی۔جہاں تک احمدیوں کے مقام کا تعلق ہے وہ اس لحاظ سے بہت اعلیٰ ہے کہ احمدی ہمیشہ نیکی کی بات کو سننے کے لئے تیار ہوتا ہے اور وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے جس میں انسان نصیحت کو قبول کرتا اور بہترین ردعمل ظاہر کرتا ہے اور یہی ترقی کے لئے سب سے ضروری امر ہے۔اگر کوئی شخص نصیحت کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے مستقبل میں ترقی اور بہتری کی اُمید ہوتی ہے اور جب وہ نصیحت کو قبول کرنا چھوڑ دے، تب ہلاکت کا خوف ہوتا ہے۔اس کی مثال اسی طرح ہے جیسے ڈاکٹر کے نزدیک یہ بات زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کہ بیماری کس حد تک بڑھ چکی ہے۔اس کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہوتی ہے کہ آیا مریض کا جسم دوائی کے اثر کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔اگر کرتا ہو تو ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فضل سے صحت یابی کی امید ہوتی ہے۔اگر اثر قبول کرنے کی حالت گزر چکی ہو تو خواہ آپ کچھ بھی کریں ، کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔