تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 954
۹۵۴ کرتا تھا۔اس زمانہ میں جب ہر طرف کفر جوش پر تھا اور اعدائے اسلام زور دکھا رہے تھے۔مامور زمانہ نے فرمایا۔ہر طرف کفر است جو شاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمارو بیکس ہیچو زین العابدیں مامور زمانہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہم نے نَحْنُ انْصَارُ اللہ کا نعرہ بلند کیا۔اس لیے ہمیں انہی روایات کو زندہ کرنا ہے جو روایات انصار اللہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔انصار مدینہ کے ایثار، جا شاری سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے۔احد کی وادی گواہ ہے کہ کس طرح انصار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ ثانیہ میں ہونے والے عہد کو نبھایا۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سند پائی۔مِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ میرے عزیز انصار بھائیو! اس قربانی کی توفیق ملتی ہے حقیقی ایمان اور کامل یقین سے۔ایسا ایمان جو ہماری زندگیوں کو بدل کر رکھ دے۔اگر احمدیت کی کشتی میں سوار ہونے کے بعد ہم ان آداب کو ملحوظ نہیں رکھتے جو اس کشتی کے نگہبان نے تجویز کیے تھے۔تو ہم آج دجالیت ، دہریت اور مادیت کے ہلاکت خیز طوفانوں سے بچ نہیں سکتے۔اس زمانہ کے مامور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔سوئے کشتی ما بیا بشتاب کشتی ازاں رب عظیم کہ ایں کہ میری اس کشتی یعنی پاک تعلیم کی طرف جلد آؤ کہ یہ کشتی رب عظیم کے منشاء سے بنی ہے۔اور جو اس کشتی کا حقیقی سوار نہیں ہو گا ، اسے آپ نے بے نصیب اور بدقسمت کہا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔واللہ کہ ہمچو کشتی نوحم ز کردگار بے دولت آنکه دور بماند زلنگرم کہ خدا کی جانب سے میں نے نوح کی طرح کشتی بنائی ہے اور جو اس کے لنگر سے دور رہے گا وہ بد نصیب ہوگا۔اسے کوئی طوفان سے بچا نہیں سکتا۔اسی کشتی کے معمار نے اس میں سوار ہونے والوں کو فرمایا ہے اور یہ فرمان انصار کے لئے عمر کے لحاظ سے زیادہ قابل توجہ ہے۔ایک ذرہ بدی کا بھی قابل پاداش ہے۔وقت تھوڑا ہے اور کا ر عمر نا پیدا۔تیز قدم