تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 850 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 850

۸۵۰ ہوا جس میں لنڈن جلسہ کی سلائیڈ ز دکھائی گئیں۔یہ اجلاس رات دس بجے ختم ہوا۔حاضری ایک صد کے قریب تھی۔مورخه ۱۳ اکتوبر کونماز تہجد با جماعت میں پینتالیس انصار نے شرکت کی۔نماز فجر کے بعد قرآن کریم، حدیث اور ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس دیا گیا۔اجلاس دوم صبح ساڑھے نو بجے مکرم پر و فیسر عبدالرشید صاحب غنی کی صدارت میں ہوا۔تلاوت و نظم کے بعد مکرم مولا نا عبد السلام طاہر صاحب نے آنحضرت بطور داعی الی اللہ“ پر تقریر کی۔جمعہ سے قبل سوال و جواب کی مجلس میں مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے جوابات دیئے۔کل حاضری ایک سو پچاس رہی۔نماز جمعہ بھی آپ نے پڑھائی اور خطبہ میں جماعت کی صد سالہ ترقیات پر نظر ڈالی خصوصاً گزشتہ ایک سال میں۔حاضری چار صد تھی۔نماز جمعہ و عصر کے بعد اختتامی اجلاس مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کی زیر صدارت شروع ہوا۔مکرم وسیم احمد صاحب شمس مربی سلسلہ، مکرم ڈاکٹر مسعود الحسن صاحب نوری اور مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد نے بالترتیب پردہ کی ضرورت اور اہمیت امراض قلب اور احتیاطی تدابیر “ اور ” جماعت احمدیہ کی ذمہ داریوں پر تقاریر کیں۔بعد ازاں نمایاں کام کرنے والے انصار میں انعامات تقسیم کئے گئے۔جلسه سیرت النبی مورخہ ۱۴ اکتوبر دو پہر ساڑھے گیارہ بجے مکرم شیخ عبدالوہاب صاحب امیر ضلع کی صدارت میں شروع ہوا۔مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد اور مکرم وسیم احمد صاحب شمس مربی سلسلہ نے خطاب کیا۔حاضری ایک سو پچاس تھی۔مکرم حمید اختر صاحب نے ایک دعوت کا اہتمام کیا جس میں چھیالیس غیر از جماعت احباب ومستورات نے شرکت کی۔مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد نے معزز حاضرین کو تحریک آزادی سے قیام پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار کے موضوع پر خطاب کیا اور حاضرین کے سوالوں کے جوابات دیے۔اس تقریب میں روزنامہ ”حیدر“ کے نمائندہ نے بھی شرکت کی۔سالانہ اجتماع ضلع حیدر آباد مورخہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۹ ء کی صبح ساڑھے نو بجے بمقام بشیر آباد شروع ہوا۔مکرم مولانا محمد اشرف صاحب ناصر بطور مرکزی نمائندہ شامل ہوئے۔تلاوت نظم اور عہد کے بعد آپ نے انصار کو ان کی ذمہ واریوں کی طرف توجہ دلائی۔مکرم عبدالرشید صاحب تبسم مربی سلسلہ نے صد سالہ جشن تشکر اور مکرم محمد صدیق صاحب نے تربیت اولا د اور انصار اللہ کی ذمہ داریوں پر خطاب کیا۔بعدہ تلاوت، نظم اور تقریر کے مقابلہ جات ہوئے۔۔بعدہ زعماء مضلع کے اجلاس میں مجالس کی مساعی کا جائزہ لیا گیا اور وصولی چندہ جات اور ر پورٹس میں با قاعدگی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی۔ضلع کی دس میں سے آٹھ مجالس کے زعماء شریک اجلاس ہوئے۔