تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 824 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 824

۸۲۴ ربوہ کا تربیتی دورہ کیا اور صبر و استقامت کے موضوع پر تقریر کی اور انابت الی اللہ اور نماز با جماعت کی طرف توجہ دلائی نیز سلائیڈ ز کی نمائش سے بھی محفوظ کیا۔حاضری ایک سو پچپیس مرد اور ایک سو بیس مستورات تھیں۔تربیتی دوره ضلع سرگودھا مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء کو اجلاس زعما ، ضلع سرگودھا صبح ساڑھے دس بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا۔اس اجلاس میں مجالس کے ایک سو تین نمائندگان حاضر تھے۔اس میں مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس، مکرم خان بشیر احمد رفیق صاحب، مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب اور مکرم غلام حسین صاحب کا رکن دفتر نے شرکت کی۔خطبہ جمعہ حسب پروگرام مکرم خان بشیر احمد رفیق صاحب نے سیرت حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر دیا جس میں سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور واقعاتی رنگ میں اس کی تفصیلات پیش کیں۔خطبہ جمعہ کے بعد شہر کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں ۱۲/۱۴ ممبران نے شرکت کی۔اس اجلاس میں صدر محترم نے شہر کی مجلس کے کام کا جائزہ لے کر اُسی وقت ضروری ہدایات دیں جو حسب ذیل ہیں۔(۱) آپس میں پیار اور محبت کو فروغ دیں۔آپس کی لڑائی اول تو بالکل نہ ہو۔اگر خدانخواستہ کسی جگہ ہو تو اسے جماعتی کاموں پر اثر انداز نہ ہونے دیں۔(۲) زعیم اعلیٰ اور ممبران گھر گھر جا کر نماز با جماعت کے قیام کی کوشش کریں۔(۳) ایثار کے شعبہ میں وقار عمل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔(۴) سرگودھا شہر کے احمدی ڈاکٹر صاحبان ہر ماہ ایک دن وقف کر کے دیہاتی جماعتوں میں جائیں۔پروگرام کی تفصیل ناظم صاحب ضلع تیار کریں۔(۵) لوکل ہسپتالوں میں اجنبی مریضوں کی تیمار داری کیا کریں۔(۶) تحریک جدید کے سلسلہ میں ایک تین رکنی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جو جائزہ لے کر اور غور وخوض کر کے ایسے احباب جماعت کی نشاندہی کرے گی جو معاونین خصوصی بن سکتے ہیں اور دو دو چار چار بلکہ پانچ پانچ اور دس دس ہزار کا وعدہ کر سکتے ہیں۔معاونین خصوصی کی جہت میں توجہ دے کر اپنے وعدے کی ایک لاکھ روپے کیا جائے۔اُس وقت تک دفتر چہارم میں دوسوا کیا سی نئے وعدہ کنندگان شامل ہو چکے تھے۔تعلیمی اداروں کی تجاویز اس اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں کی تجویز پیش ہوئی کہ جماعت کی نئی نسل کو تباہی سے مکمل طور پر بچانے کے لئے جماعت کم از کم پرائمری اور مڈل لیول سے ہی ربوہ میں اپنے سکول شروع کرے تا احمدی نسل از کی اٹھان اور نشو ونما اور تعلیمی ترقی حسب منشاء ہو سکے۔نیز اس موقع پر جو بلی فنڈ ، اصلاح وارشاد، نماز با جماعت، تعلیم تحریک جدیدا اور باہمی تعلقات کے سلسلہ میں ہدایات دی گئیں۔