تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 56
مکرم چوہدری عطاء اللہ صاحب عمر اسی سال۔سانگلہ ہل کا فاصلہ دو گھنٹے میں طے کرنے کے بعد برج نہر پر پہنچ کر ناشتہ کیا نیز انصار نے مکرم چوہدری عطاء اللہ صاحب کی ٹانگوں اور پٹھوں کو دبایا تا کہ وہ دوبارہ سفر کے قابل ہو جائیں۔آدھا گھنٹہ قیام کے بعد ساڑھے آٹھ بجے دوبارہ سفر جاری کیا گیا۔راستے میں انصار نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے ، لا إله إلا الله درود شریف اور دیگر اذکار کرتے رہے۔جب بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگتا چو ہدری عطاء اللہ صاحب کا حوصلہ اس قدر بڑھتا کہ وہ سائیکل تیز کر لیتے۔چینوٹ گزر کر چڑھائی شروع ہونے سے پہلے دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ پل پر سے خیریت سے گزار دے، اسی سالہ بزرگ چڑھائی کیسے چڑھیں گے کیونکہ وہ پیدل نہیں چل سکتے ، گھٹنوں میں درد ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل شامل رہا کہ اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور چڑھائی شروع کر دی۔مکرم ماسٹر محمد لطیف صاحب چلتے سائیکل پر سے ہی بازو سے پکڑ کر آگے کو دھکیلتے رہے۔اس طرح دعا ئیں کرتے ہوئے پل پر سے گزر گئے اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔چڑھائی سے اُترتے ہی سڑک کی دائیں طرف خدام و اطفال کھیل کود میں مصروف تھے انہوں نے دیکھ کر نعرے لگائے۔گیارہ بجکر میں منٹ پر دفتر استقبالیہ میں پہنچے۔وہاں دودھ، بسکٹ، کیلوں اور گنڈیریوں سے تواضع کی گئی۔دورانِ اجتماع متعدد بار حضور انور نے اس وفد کا ذکر کیا۔مکرم چوہدری عطا اللہ صاحب کو دوصد روپے اور کتب کے خصوصی انعام سے نوازا اور مصافحہ بخشا۔واپسی پر بھی پورا وفد سائیکلوں پر سانگلہ ہل پہنچا۔۲۱ ) (۳) سائیکل سفر از ضلع راولپنڈی ضلع راولپنڈی کے نو انصار پر مشتمل قافلہ مکرم عادل ایاز صاحب کی قیادت میں ۲ نومبر کو راولپنڈی سے نماز فجر کے بعد عازم ربوہ ہوا۔یہ قافلہ گوجر خاں اور دینہ سے ہوتے ہوئے رات جہلم ٹھہرا جہاں جماعت احمدیہ جہلم نے ان کے قیام و طعام کا بندو بست کیا۔اگلی رات پھلروان میں ٹھہرے۔۴ نومبر کی سہ پہر بخیر و عافیت ربوہ پہنچے۔راستہ میں دعوت الی اللہ کا موقع بھی ملا۔بہت سے افراد نے یہ سُن کر کہ صرف اجتماع کی غرض سے اتنی دور سے یہ انصار سائیکلوں پر تشریف لا رہے ہیں، تعجب کا اظہار کیا۔﴿۲۲﴾ بیوت الحمد سکیم سید نا حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دورہ سپین ( جس کے دوران حضور نے ساڑھے سات سو سال بعد مسجد بشارت سپین کا افتتاح فرمایا تھا ) کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲۹ اکتوبر ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ میں فرمایا: غور کرتے ہوئے میری توجہ مسجد بشارت سپین کی طرف منتقل ہوگئی اور میں نے سوچا کہ ساری دنیا میں جماعت احمد یہ اللہ کی حمد کے ترانے گا رہی ہے اور سب دنیا پر یہ حقیقت