تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 786 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 786

ZAY کیں اور انصار کو اجتماع اور سہ ماہی امتحان میں شرکت کی طرف توجہ دلائی۔مکرم مربی صاحب نے ازاں بعد تو حید باری تعالی ، مالی قربانی ، جذ به ایثار، تربیت اولاد، پابندی نماز کے بارہ میں ایک جامع تقریر کی۔جس میں آپ نے مثالوں سے وضاحت فرمائی کہ اسلام میں ہمیشہ مزدور کو بر وقت مزدوری ملتی ہے۔اسی طرح خدا وند کریم جو بہت دیا لو ہے اُس کی راہ میں کی گئی سعی کو کبھی ضائع نہیں کرتا بلکہ محنت کا احسن پھل دیتا ہے۔بعد نماز عشاء دُعا سے اجلاس برخاست ہوا۔حاضری انصار دس خدام چار، اطفال دو۔کل حاضری سولہ۔(۳) سمن آباد:۲۳ ستمبر کو بعد نماز مغرب بر مکان ڈاکٹر عبدالمنان صاحب، بشیر حسین صاحب تنویر زیر صدارت زعیم اعلیٰ مجلس مذاکرہ کا آغاز تلاوت قرآن کریم ونظم از در مشین سے ہوا۔زعیم اعلیٰ صاحب نے بتایا کہ آئے دن جماعت کے خلاف پھیلائے جانے والے بے بنیاد شک وشبہات کو دور کرنے ، آپس میں اخوت و محبت کو فروغ دینے کے لئے اس مجلس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ازاں بعد مکرم مولانا محمد الدین صاحب مربی سلسلہ نے فضائل قرآن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت بیان فرمائی۔سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۳۸ کہ قرآن کریم مسلمانوں کے لئے شفا اور رحمت ہے۔جب تک مسلمان اس پر عمل کرتے رہے، ہمیشہ کامیاب و کامران رہے۔آپ نے احباب کے سوالات کے مدلل جوابات سے اُن کی تسلی کروائی۔یہ مجلس ڈیڑھ گھنٹہ تک پر سکون ماحول میں جاری رہی۔احباب نے بے حد دلچسپی کا اظہار کیا۔آخر پر زعیم اعلیٰ نے احباب کا شکریہ ادا کیا۔بعد دعا اجلاس برخاست ہوا۔حاضرین کی چائے سے تواضع کی گئی۔حاضری احباب جماعت انتیس ، مہمان گیارہ۔کل چالیس۔(۴) حلقہ مسجد فضل و فیکٹری ایریا : ۲۴ ستمبر کو اس مجلس میں حسب پروگرام مکرم انچارج بزم ارشاد اور رکن بزم ارشاد فیکٹری ایریا نے اپنے اپنے گھروں میں تبلیغی مجالس کا انعقاد کیا۔(۱) مسجد فضل بھوانہ بازار۔مہمان پانچ علماء وقت ۲ گھنٹے موضوع وفات مسیح (۲) فیکٹری ایریا۔مہمان پانچ دوست وقت ۲ گھنٹے موضوع وفات مسیح (۵) حلقه کریم نگر : ۲۵ ستمبر بعد نماز مغرب زیر صدارت مکرم مولانا سلطان محمود صاحب انور مجلس مذاکرہ کا انعقاد ہوا۔تلاوت قرآن کریم نظم کے بعد مکرم زعیم اعلیٰ صاحب نے مجلس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔صدرا جلاس نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ دنیا اور کئی نسلیں منتظر تھیں اور ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آئیں گے۔مدعی مہدویت حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے تمام مذاہب کو چیلنج کیا۔آریہ، ہندو، سکھ، عیسائی سب کا دلائل سے منہ بند کر دیا۔آپ نے خاتم النبیین کی تشریح مہر ، افضل الرسل بتائی اور بتایا اولین و آخرین کے لئے مہر ہیں۔ہم آپ سے کلمہ قرآن ، نماز اور آنے والے نبی کے بارہ میں اشتراک رکھتے ہیں۔آپ حضرت ابن مریم کے منتظر ہیں۔ہم امتی نبی کے قائل ہیں۔صرف شخص کے تعین میں اختلاف ہے۔