تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 785
۷۸۵ عشرہ اصلاح وارشاد مجلس فیصل آباد شہر عشره اصلاح و ارشاد از ۶ ستمبر تا ۲۶ ستمبر ۱۹۸۲ء کا پروگرام مجلس عاملہ کے اجلاس میں زیر غور لا کر طے پایا کہ شہر کو چھ سیکٹرز میں تقسیم کیا جائے اور ہر سیکٹر کا انچارج ممبر مجلس عاملہ مقرر کیا جائے۔اس پروگرام کی مکرم امیر صاحب ضلع سے منظوری حاصل کی گئی۔نیز مرکز کو بھی مطلع کیا گیا۔یہ بھی طے پایا کہ سیکٹر کریم نگر اور بٹالہ کالونی میں مرکزی نمائندگان کے لئے درخواست کی جائے۔ان فیصلہ جات کی روشنی میں درج ذیل سیکٹرز تشکیل دے کر ان کے انچارج مقرر کئے گئے۔تاریخ ۲۲۹_۸۲ ۲۳-۹-۸۲ حلقہ جات سنٹر انچارج جناح کالونی / گلبرگ جناح کالونی ماڈل ٹاؤن مکرم شیخ عبدالقادر صاحب غلام محمد آباد/ رضا آباد غلام محمد آباد مکرم را نالطیف احمد خان صاحب سمن آباد مکرم میاں مبارک احمد صاحب منتظم تربیت ۲۵-۹-۸۲ سمن آباد/ ڈی ٹائپ مسجد فضل / فیکٹری ایریا کریم نگر ، اسلامیہ کالج ، محمد نگر ، کریم نگر فیکٹری ایریا مکرم شیخ عزیز احمد صاحب مکرم شیخ عبدالقادر صاحب حاجی آباد منصور آباد پیپلز کالونی، جھال ، مدینہ ٹاؤن، بٹالہ کالونی مکرم میاں غلام احمد صاحب طارق آباد ، مسلم پارک، بٹالہ کالونی نائب زعیم اعلیٰ اول (1) حلقہ جناح کالونی ماڈل ٹاؤن : ۲۰ ستمبر کو بعد نماز مغرب زیر صدارت زعیم اعلیٰ اجلاس منعقد ہوا اور تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم مولا نا محمد الدین صاحب مربی سلسلہ نے نئی نسل کی تربیت ، فضائل قرآن ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل الرسل ہیں ، امت مسلمہ خیر امت جیسے اہم موضوعات پر مدلل خطاب فرمایا۔ایک دوست کے استفسار پر جماعت احمدیہ کے وفات مسیح کے عقیدہ کے بارہ میں قرآن کریم و احادیث کی روشنی میں مکمل وضاحت فرمائی۔مقام حضرت علی کرم اللہ وجہ مقام حضرت حسن و حسین علیہم السلام بیان فرمایا جس سے وہ دوست بہت متاثر ہوئے۔نماز عشاء تک یہ مجلس جاری رہی۔صاحب خانہ نے حاضرین کی چائے سے تواضع کی۔حاضری احباب جماعت اکیس ، مہمان ایک کل میزان بائیں۔(۲) حلقه غلام محمد آباد: ۲۲ ستمبر کو زیر صدارت زعیم اعلیٰ صاحب بعد نماز مغرب تلاوت قرآن کریم سے اجلاس کا آغاز ہوا۔زعیم اعلیٰ صاحب نے بتایا کہ اجلاس کے انعقاد کی غرض یہ تھی کہ جماعت احمدیہ پر کئے جانے والے بے بنیا داعتراضات کی وضاحت کی جائے۔حضرت اقدس مسیح موعود کی آمد کی غرض بیان کی جائے مگر زیر تبلیغ احباب میں ایک اہم شخص کی وفات کی وجہ سے یہ غرض پوری نہ ہوسکی۔اس لئے زعیم اعلیٰ نے بعض تحریکات پیش