تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 55 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 55

کیا۔پچہتر میل سفر کر کے شام سے قبل کرونڈی جماعت میں پہنچے۔اس روز نو (۹) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سائیکل چلائے۔اس جماعت میں بھی بہت آرام ملا اور مکرم ناظم صاحب انصار اللہ ضلع خیر پور نے ہمارے رستہ کے لئے بھی عمدہ کھانا پیش فرمایا اور دُعا کروا کر ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۲ء کو صبح رخصت کیا۔۱۱۰ میل سفر کر کے شام کو ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں ٹھہرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ہم کچھ رستہ رات کو چلے۔لیکن ٹریفک کی زیادتی کی وجہ سے ہمارے بزرگ مکرم علی محمد صاحب کو ایک ٹرک سے ٹکرا کر کچھ چوٹیں آئیں اور ہمیں سفر روک کر ایک ٹاہلی کے نیچے جنگل میں رات گزارنی پڑی۔اُس روز کی اوسط رفتار ساڑھے دس میل فی گھنٹہ رہی۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ یکم نومبر ۱۹۸۲ء کو تین بجے رات کچھ وقت پیدل چلتے رہے پھر ایک ہوٹل میں چائے پی کے صبح کا انتظار کر کے روانہ ہوئے۔اوباڑ و جماعت میں دس بجے صبح پہنچے۔اُن سے اوچ شریف کا ایڈریس لیا اور شام کو وہاں پہنچے۔جہاں ہمیں بیحد آرام ملا اُس روز دس میل فی گھنٹہ رفتار رہی۔۲ نومبر ۱۹۸۲ء کو صبح پونے سات بجے اوچ شریف سے روانہ ہوئے۔چھ بجے شام ملتان کے قریب پہنچ گئے۔مکرم امیر صاحب ضلع ملتان کے گھر 9 بجے کے قریب پہنچے۔انہوں نے اور اُن کے رفقاء کار نے ہم گندے مندے اور بد بوداروں کو گلے لگایا اور ہر طرح کا آرام پہنچایا۔جَزَاكُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ - اُس روز بارہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر طے کیا۔نومبر ۱۹۸۲ء کو صبح ملتان سے روانہ ہو کر شام چھ بجے جھنگ پہنچے۔اور مسجد ڈھونڈتے ہوئے نو بجے منزل پر پہنچے۔بہت آرام پایا۔اس روز تیرہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سائیکل چلائے۔شکر الحمد للہ ۴ نومبر ۱۹۸۲ء کو جھنگ سے ساڑھے بجے صبح جھنگ کے قافلہ کے ساتھ روانہ ہوئے اور تین بجے دو پہر بخیر و عافیت بہشتی مقبرہ دعا کرتے ہوئے جائے قیام ربوہ پہنچے۔ہر قسم کی خدمات ہمارے لئے پیش کی گئیں اور سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے دو دو مصافحے اور معانقے اور آدھ گھنٹہ مجلس عرفان میں روداد سفر سنانے اور دو فوٹو حضور کے ساتھ کھینچوانے کے مواقع نصیب ہوئے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ - (۳۰) (۲) سائیکل سفر از سانگلہ ہل حلقہ سانگلہ ہل ضلع شیخو پورہ سے پانچ انصار کا ایک وفد سالانہ اجتماع میں سائیکل سفر کے ذریعہ شامل ہوا جس میں ایک اسی سالہ بزرگ انصار بھی تھے۔اجتماع سے ہفتہ قبل انصار کو توجہ دلانی شروع کی گئی۔۵ نومبر ۱۹۸۲ء کو بعد از نماز فجر 4 بجے مسجد احمد یہ سانگلہ ہل سے سفر کا آغاز کیا گیا۔روانگی سے قبل مکرم حافظ محمود احمد ناصر صاحب مربی سلسلہ نے دعا کروائی اور مکرم چوہدری فقیر اللہ صاحب امیر جماعت سانگلہ ہل کے علاوہ قریباً پچاس خدام وانصار نے رخصت کیا۔ارکانِ وفد میں تین سانگلہ ہل مجلس کے یعنی مکرم شیخ محمد حسین صاحب، مکرم احمد دین صاحب، مکرم سراج الدین صاحب ظفر تھے اسی طرح چک نمبر ۴۵ مرڈ سے مکرم ماسٹر محمد لطیف صاحب اور چہور سے