تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 722 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 722

۷۲۲ قاعدہ نمبر ۲۱ ( قواعد عاملہ ) : بیرونی ممالک سے متعلق الفاظ حذف کر دئیے گئے۔قاعدہ نمبر ۲۱۸: اس میں سے مندرجہ ذیل لفظ حذف کر دئیے گئے۔تاہم بیرونی ممالک میں جماعتی رسید بکوں پر ہی مجلس انصار اللہ کے چندہ جات وصول کئے جائیں گے۔“ ۱۹۹۷ء میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے تمام ذیلی تنظیموں کے عہد یداران کی میعاد تقرر میں یکسانیت پیدا فرماتے ہوئے دو سال کی مدت مقرر فرمائی۔حضور انور کے اس ارشاد پر مکرم ناظر صاحب اعلی صدرانجمن احمد یہ پاکستان کے خط نمبر ۸۸۷ مؤرخہ ۲/ نومبر ۱۹۹۷ء کے مطابق دستور اساسی انصار اللہ کے متعلقہ قواعد میں تبدیلی کر دی گئی اور قواعد نمبر ۵۵،۵۲،۳۹، ۱۱،۵۸ اور ۱۱۵ میں صدر مجلس ، زعیم اعلیٰ ، زعیم مقام وحلقہ ،مجلس عاملہ مقام و حلقہ کی میعاد خدمت تین سال کی بجائے دوسال ہوگئی۔مجلس شوری ۱۹۹۸ ء نے قاعدہ نمبر ۲۲ میں تقرر عہدیداران کی شرائط میں جزو کا اضافہ کرنے کی سفارش کی کہ وہ اسلامی شعار کی پابندی کرنے والا ہو یعنی داڑھی رکھے۔استثنائی حالت میں صدر مجلس سے اجازت لینی ضروری ہوگی۔سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے یہ سفارش منظور فرمالی۔دسمبر ۱۹۹۹ء تک جو ترامیم ہوئیں انہیں دستور اساسی کے آٹھویں ایڈیشن میں شامل کر لیا گیا جو جنوری ۲۰۰۰ ء میں اشاعت پذیر ہوا۔دستور اساسی کی طباعت پہلے مجلس انصار اللہ مرکز یہ اور بعد میں مجلس انصار اللہ پاکستان کی طرف سے دستور اساسی کے درج ذیل کل آٹھ ایڈیشن طبع ہوئے ہیں۔طبع اوّل اپریل ۱۹۵۹ء طبع دوم جولائی ۱۹۶۴ء طبع سوم مئی ۱۹۷۱ء طبع چهارم اکتوبر ۱۹۷۸ء طبع پنجم مئی ۱۹۸۳ء طبع ششم اپریل ۱۹۸۹ء طبع ہفتم ١٩٩٤ء طبع ہشتم جنوری ۲۰۰۰ء نوٹ : دسمبر ۱۹۸۹ء میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے ارشاد پر مکرم وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید کی طرف سے انگریزی میں دستور اساسی جاری کیا گیا۔