تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 718 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 718

ZIA ارشاد حضور انور : ۲۲۹ سے متعلق فیصلہ ۲۲۸ کے بارہ میں فیصلہ پر منحصر ہوگا۔“ سفارش مرکزی عاملہ: قاعدہ نمبر ۲۲۸ پر سفارش کی روشنی میں مجوزہ قاعدہ نمبر ۲۲ حذف کر دیا جائے۔فیصلہ حضرت خلیفہ اسیح: حضور نے کا نشان لگا کر منظوری عطا فرمائی۔سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے ۲۷ / جولائی ۱۹۸۲ ء کو حضور انور نے دستور اساسی کے قواعد نمبر ۴۲ و ۴۶ کی مجوزہ شکل بصورت قاعدہ نمبر ۷۳ مجلس شوری ۸۲ء میں پیش کرنے کا ارشا د فر مایا۔اس قاعدہ کی رُو سے تجویز کیا گیا تھا کہ مجلس شوری کے لئے نمائندگان مجالس کی مقرر کردہ تعداد میں زعیم اعلیٰ / زعیم بھی شامل ہوں گے۔مذکورہ قاعدہ شوریٰ ۸۲ء میں پیش کیا گیا تو مجلس شوری نے بھاری اکثریت سے سفارش کی کہ زعیم اعلیٰ/ زعیم مجلس حسب سابق اپنے عہدہ کے اعتبار سے مجلس شوری کے رکن ہوں اور انہیں مجلس متعلقہ کے لئے مقرر کردہ تعداد میں شامل نہ کیا جائے۔یہ سفارش حضور انور کی خدمت میں پیش کر کے منظوری حاصل کی گئی۔نظر ثانی شدہ دستور حضور کی منظوری سے یکم جنوری ۱۹۸۳ء سے نافذ ہوا اور مئی ۱۹۸۳ء میں طبع ہوا۔یہ مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دستور اساسی کا پانچواں ایڈیشن تھا۔دیگر ترامیم ۱۹۸۶ء میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسح الرابع " نے ایک کمیٹی قائم فرمائی جس کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ گذشتہ چند سالوں سے بیرونِ پاکستان بعض ممالک میں مبلغ انچارج ( جو بلحاظ عہدہ انصار اللہ کے نائب صدر ملک بھی ہوتے تھے ) امیر ملک نہیں رہے بلکہ دوسرے احباب کو امیر مقرر کیا گیا ہے۔اس لئے کمیٹی غور کر کے یہ رپورٹ پیش کرے کہ امیر اور مبلغ انچارج میں سے کس کو ملکی ذیلی تنظیموں کا نائب صدر مقرر کیا جائے۔یا کوئی اور صورت اختیار کی جائے۔اس کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے پر حضور نے نائب صدر ملک کا عہدہ مجالس انصاراللہ بیرون سے ختم کرنے کی منظوری عطا فرمائی۔اس طرح قواعد نمبر ۱۷۱ تا ۱۷۸ جو نائب صدر ملک کے فرائض و اختیارات کے بارہ میں تھے مکمل طور پر ختم کر دیئے گئے اور دیگر قواعد جن میں نائب صدر ملک کا ذکر تھا ( مثلا قاعدہ نمبر ۲۴ بابت شوری ) ، ۳۷، ( بابت عمومی قواعد تقرر عہدیداران) ۵۴ ( بابت تقرری اراکین مجلس عامله ملک) ، ۱۸۲ بابت اختیارات ناظم اعلی ملک ) ۱۹۴ ( بابت اختیارات ناظم علاقہ ضلع ) ۲۰۲ ( بابت اختیارات زعیم اعلی )، ۲۱۰ ( بابت اختیارات زعیم مقام حلقہ ) سے نائب صدر ملک کے الفاظ حذف کر دیے گئے۔قیادت عمومی مجلس مرکز یہ کی تجویز پر مجلس شوری ۱۹۸۷ء نے سفارش کی کہ دستور اساسی میں جن قواعد میں خلیفہ وقت کا ذکر ہے وہاں بیشتر قواعد میں الفاظ حضرت خلیفۃ اصیح استعمال کئے گئے ہیں۔سوائے قاعدہ نمبر ۸۶ اور قاعدہ نمبر ۲۲۸ کے، جن میں خلیفہ وقت اور خلیفہ اسیح کے الفاظ آئے ہیں لہذا ان دونوں قواعد میں ترمیم کر کے حضرت خلیفہ اسیح “ کے الفاظ لکھے جاویں۔نیز قاعدہ نمبر ۸۶ میں مرقوم تھا کہ ”مجلس شوری کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے اختیارات جزوی یا کلی طور پر