تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 717 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 717

212 سفارش مرکزی عاملہ کوئی نام منظوری کے لئے صدر مجلس کو بھجواتے وقت انتخابی اجلاس کی پوری کا رروائی تمام پیش کردہ نام، مجوز مؤید اور حاصل کردہ ووٹ ) ساتھ بھجوانی ضروری ہوگی۔فیصلہ حضرت خلیفہ اسیح: حضور نے کا نشان لگا کر منظوری عطا فرمائی۔مجوزه قاعدہ نمبر ۸۶ مجلس شوری کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے اختیارات جزوی یا کلی طور پر کسی سب کمیٹی یا افراد کو عارضی طور پر تفویض کر دے۔ارشاد حضور انور : ایسی کمیٹیوں کی رپورٹ آخری منظوری کے لئے مجلس شوری یا خلیفہ وقت کے پاس پیش ہوگی۔“ سفارش مرکزی عاملہ مجلس شوری کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے اختیارات جزوی یا کلی طور پر کسی سب کمیٹی یا افراد کو عارضی طور پر تفویض کر دے۔ایسی کمیٹیوں کی رپورٹ آخری منظوری کے لئے مجلس شوری یا خلیفہ وقت کے پاس پیش ہوگی۔ر فیصلہ حضرت خلیفہ اسیح: حضور نے ✓ کا نشان لگا کر منظوری عطا فرمائی۔مجوزہ قاعدہ نمبر ۲۲۸: مجلس انصاراللہ کے چندوں کی شرح حسب ذیل ہوگی۔(۱) چنده مجلس: کل آمد پر ایک فیصد (۲) چندہ سالانہ اجتماع : ماہوار آمد کا ڈیڑھ فیصد سالانہ (۳) چندہ اشاعت لٹریچر : کم از کم ایک روپیہ سالانہ فی رکن 66 ارشاد حضور انور : ( ہنگامی تحریکات کے سوا ) صرف اتنا کیوں نہ رہنے دیا جائے کہ جملہ چندوں کی شرح مقرر کرنے کا اختیار مجلس شوری کو ہو گا۔“ سفارش مرکزی عاملہ مجلس انصار اللہ کے مستقل چندوں کی شرح مقرر کرنے کا اختیار مجلس شوریٰ انصار اللہ کو ہوگا۔اسی طرح مجلس انصار اللہ کے وصول شدہ چندوں کے حصص کی تقسیم کا فیصلہ بھی مجلس شوریٰ انصار اللہ کرے گی۔فیصلہ حضرت خلیفہ ای: حضور نے کا نشان لگا کر منظوری عطا فرمائی۔نیز اس قاعدہ کے آخر میں یہ ایزادی فرمائی کہ جس کی منظوری خلیفہ اسیح دیں گے۔مجوزہ قاعدہ نمبر ۲۲۹: مجلس انصار اللہ کے وصول شدہ چندوں کی تقسیم حسب ذیل طریق پر ہوگی۔66۔پاکستان میں : چندہ مجلس : حصہ مرکز ۶۷ فیصد حصہ ناظمین علاقہ واضلاع ۵ فیصد۔حصہ مقامی مجلس ۲۸ فیصد چندہ سالانہ اجتماع اور چندہ اشاعت لٹریچر سو فیصد مرکز میں بھجوایا جائے گا۔ممالک بیرون میں : چندہ مجلس : حصہ مرکز ۲۰ فیصد۔حصہ ملک ۵۰ فیصد۔حصہ مقامی ۳۰ فیصد چندہ سالانہ اجتماع: حصہ مرکز ۱۰ فیصد حصہ ملک ۹۰ فیصد چندہ اشاعت لٹریچر : حصہ سو فیصد