تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 42 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 42

۴۲ کے خلاف کوئی کلمہ بولیں تو سارے یورپ کے اخبار اس کو اُچھالیں اور کہیں کہ دیکھو ! خمینی کو CONDEMN یعنی بدنام کیا جا رہا ہے۔اور اگر ہم کچھ نہ کہیں تو سارا یورپ سمجھ لے کہ یہ بھی اسی قسم کا ایک اسلام ہے۔جو آج ہمارے پاس آ گیا ہے۔اور ہمیں اس اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں جو مظالم کی تعلیم دیتا ہو۔یہ وہ مشکل رستہ تھا جس پر وہ مجھے کھینچ کر لانا چاہتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس کو مؤثر جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ جواب میں اس لئے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں بعض تبلیغی حکمتیں ہیں جن کو آپ کے سامنے کھول کر رکھنا ضروری ہے۔اس کا ایک جواب تو میں نے ان کو یہ دیا کہ جب آپ ثمینی صاحب پر حملہ کرتے ہیں اور مظالم کی داستان کو اُچھالتے ہیں تو آپ یہ فرق نہیں کرتے کہ مسلم قوم اور مسلم لیڈر ایک اور چیز ہے۔اور اسلام ایک اور چیز۔اسلام ایک مذہب کا نام ہے۔اس کی ایک تعلیم ہے۔اس کی طرف منسوب ہونے والے سارے کے سارے اس تعلیم پر ہر پہلو سے کار بند نہیں ہیں؟ اگر سو فیصدی تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ کا بیان درست ہے۔وہ نہایت ظالم ہیں۔انہوں نے اسلام کے نام پر حد سے زیادہ مظالم کئے ہیں تب بھی آپ کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔آپ اپنی تاریخ کو بھلا کر کس طرح اعتراض کر سکتے ہیں۔یورپ کی ایسی تاریخ آپ کے سامنے کھلی پڑی ہے کہ ایک ایک ملک کی ایک ایک ملکہ نے اپنی تھوڑی سی زندگی کے دور میں پانچ پانچ ہزار معصوم لوگوں کو زندہ آگ میں جلوا دیا۔اس الزام پر کہ وہ جادوگری کرتی تھیں۔میں نے ان سے کہا کہ چین کی INQUISITION کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔۔۔پھر جرمنی کی تاریخ آپ کے سامنے پڑی ہے۔۔۔ساری جرمن قوم گواہ ہے کہ آپ نے تلوار کے زور سے ان کو ز بر دستی عیسائی بنایا ہے۔آپ ایک خمینی پیش کر رہے ہیں آپ کے گریبان میں تو ہزاروں خمینی شور مچارہے ہیں۔۔۔۔۔جب تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا تھا تو ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں۔۔۔جب میں دیکھتا تھا کہ ان کے سر جھک گئے ہیں اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں تو پھر میں ان کو اصل مقصد کی طرف لاتا تھا۔ہمارا مقصد تو دل جیتنا ہے تب میں ان سے ایک اور بات کہتا تھا۔اسلم ہمیں انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ جب وہ مظالم عیسائیت کے نام پر ہورہے تھے عیسائیت کا ایک ذرہ بھی قصور نہیں تھا۔جب ان کو یہ بات بتائی جاتی تھی تو ان کے چہروں کی کیفیت بالکل مختلف ہو جاتی تھی۔شکست کا جو احساس تھا وہ طمانیت میں بدل جاتا تھا۔وہ سمجھ جاتے تھے کہ ہاں عیسائیت پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔لیکن ساتھ ہی اسلام کی اعلیٰ اخلاقی۔۔۔۔۔۔