تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 627
۶۲۷ کارروائی اجلاسات مجلس عاملہ ا جون ۱۹۸۲ء سے ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ ء تک مجلس عاملہ کے کل ایک سو چھپن اجلاسات ہوئے۔یہ اجلاسات صدر مجلس کی صدارت میں منعقد ہوتے ہیں۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوتا ہے اور پھر عہد دہرایا جاتا ہے۔مرکزی عاملہ کے چندا جلاسات کی کارروائی مختصر رپورٹ کی شکل میں بطور نمونہ ہدیہ قارئین کی جاتی ہے۔اجلاس مورخہ 9 مئی ۱۹۹۰ء مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کا اجلاس مورخہ ۹ مئی ۱۹۹۰ء بروز بدھ بوقت ساڑھے پانچ بجے نماز عصر زیر صدارت مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس گیسٹ ہاؤس مجلس انصار اللہ میں منعقد ہوا۔جس میں مندرجہ ذیل قائدین نے شرکت کی۔مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب - مکرم منور احمد جاوید صاحب۔مکرم مولا نا محمد صدیق صاحب گورداسپوری۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب۔مکرم ڈاکٹر لطیف احمد صاحب قریشی۔مکرم مولا نا محمد اسماعیل صاحب۔مکرم پر و فیسر منورشیم خالد صاحب - مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب - مکرم میجر عبد القادر صاحب۔مکرم پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب - مکرم محمد اسلم شاد منگل صاحب اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب قائد تحریک جدید نے کی اسکے بعد عہدد ہرایا گیا۔عہد کے بعد گذشتہ اجلاس کی رپورٹ پیش کی گئی۔اسکے بعد قائدین کرام نے ماہ مارچ کی رپورٹیں پیش کیں اور پھر مرکزی سالانہ اجتماع کی تاریخوں کا معاملہ پیش ہوا۔اس بارہ میں طے پایا کہ مورخہ ۲ ۳ ۴ نومبر جمعہ۔ہفتہ۔اتوار کی تاریخوں کے لیے حضور کی خدمت میں منظوری کے لیے لکھا جائے۔ضلعی اجتماعات کے بارہ میں طے کیا گیا کہ انہیں بھر پور طریق سے ترتیب دیا جائے اور اس کے لئے مالی لحاظ سے بھی جہاں بھی ضرورت ہو ، مدد کی جائے اور اجتماع کیلئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں شرارت کا کوئی پہلو نہ ہو۔محترم صدر صاحب نے ہدایت فرمائی کہ دورہ کمیٹی جولائی سے وسط اکتو بر تک مختلف علاقوں کے حالات کے لحاظ سے پروگرام کے بارہ میں تفصیلات طے کر لے۔مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے تجویز کیا کہ دوروں سے کما حقہ، فائدہ اٹھانے کے لیے خدام، اطفال اور لجنہ کو بھی اجلاسوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔اس پر محترم صدر صاحب نے دورہ کمیٹی کو ہدایت فرمائی کہ جہاں دورہ کے لیے وفد جا رہا ہو، متعلقہ شہر کے امیر یا صدر جماعت کو بھی اطلاع دی جایا کرے کہ وہ حسب پروگرام اجلاس میں افراد جماعت کو شامل ہو کر فائدہ اٹھانے کی تلقین کریں۔محترم صدر صاحب