تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 621 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 621

۶۲۱ کر کے رہنمائی لیتے ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ۳ نومبر ۱۹۸۹ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے ارشاد کے تابع مجلس انصار اللہ مرکزیہ کا دائرہ کار پاکستان تک محدود ہو گیا۔۱۹۸۹ء کی مجلس عاملہ مرکز یہ نے اس کے بعد بقیہ سال بطور مجلس عاملہ پاکستان اپنے فرائض سرانجام دیئے۔۱۹۸۲ء سے ۱۹۹۹ء تک جن احباب کو خدمت کی توفیق ملی۔ان کے اسماء ذیل میں درج ہیں : مجلس عاملہ مجلس انصار اللہ مرکزیہ اراکین خصوصی ۱۹۸۲ ء و ۱۹۸۴ ء۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب لندن ۱۹۸۶ء تا ۱۹۸۹ء۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب سرگودھا ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۳ء مکرم مولا نا عبد المالک خان صاحب ربوہ ۱۹۸۲ ء تا ۱۹۸۹ء مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب ربوہ ۱۹۸۲ ء تا ۱۹۸۹ ء۔مکرم چوہدری احمد مختار صاحب کراچی ۱۹۸۲ ء تا۱۹۸۹ء، مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب ۱۹۸۲ ء تا ۱۹۸۹ء۔مکرم چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب سوئٹزر لینڈ ۱۹۸۲ ء تا ۱۹۸۹ء۔مکرم عبدالوہاب بن آدم صاحب غانا ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۹ء۔مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب شیخوپورہ ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۳ء،۱۹۸۶ءتا۱۹۸۹ء۔مکرم مظفراحمد ظفر صاحب امریکہ ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۳ ء (۱۹۸۶ء۔مکرم یکی پتو صاحب انڈونیشیا ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۳ء،۱۹۸۶ء و۱۹۸۹ء۔مکرم سوینڈ مینسن صاحب ڈنمارک ۱۹۸۴ء۔حضرت صوفی غلام محمد صاحب ربوہ ۱۹۸۶ ء تا ۱۹۸۹ء۔حضرت مولوی محمد حسین صاحب ربوہ ۱۹۸۶ ء تا ۱۹۸۹ ء مکرم چوہدری ہدایت اللہ صاحب بنگوی انگلستان ۱۹۸۶ ء تا ۱۹۸۹ء۔مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب کینیڈا ۱۹۸۷ ء تا ۱۹۸۹ ء۔مکرم شریف احمد صاحب کو بس (LUBIS) انڈونیشیا ۱۹۸۸ء تا ۱۹۸۹ء مکرم هبة النور فراغن صاحب ہالینڈ ۱۹۸۸ء مکرم عبدالسلام میڈیسن صاحب ڈنمارک ۱۹۸۹ء۔مکرم عبداللہ واگس ہاؤز ر صاحب جرمنی