تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 611
۶۱۱ سب کی اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب رفقائے کار کو اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی بہترین جزاء عطا فرمائے۔جہاں کام ہوئے ہیں وہاں بعض کام نہیں بھی ہوئے۔بعض کماحقہ نہیں ہوئے۔کوتا ہیاں بھی ہوئی ہیں۔بھولیں بھی ہوئی ہیں۔میں احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں جو کچھ پیش کیا ہے ہم سب نے مل کر اسے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور جو نہیں پیش کر سکے اس سے صرف نظر فرمائے۔محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کے وجود میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہتر صدر سے نوازا ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا بادی دراہبر اور رفیق و مددگار ہو۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ جس طرح آپ مجھ سے تعاون فرماتے رہے۔اسی طرح ان سے بھی تعاون فرمائیں گے بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر۔اس عرصہ میں عین ممکن ہے کہ کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو اس کے لئے میں 66 معذرت خواہ ہوں اور دعا کی درخواست کے ساتھ آپ سے رخصت چاہتا ہوں۔“ اس دعائیہ تقریب میں محترم چوہدری شبیر احمد صاحب (رکن خصوصی مجلس انصار اللہ پاکستان ) نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل دعائیہ منظوم کلام پڑھ کر سنایا۔کارکنان مجلس انصاراللہ پاکستان حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی دفتر مجلس انصار اللہ پاکستان کے کارکنان نے مورخہ ۱۳ جنوری ۲۰۰۰ء کو مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کے اعزاز میں ایک الوداعی دعوت دی۔یہ تقریب زیر صدارت محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب منعقد ہوئی۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم حفیظ احمد صاحب مربی سلسلہ نے کی۔اس کے بعد مکرم طارق محمود صاحب منگلا نے نظم پیش کی اور کارکنان کی طرف سے سپاسنامہ مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب پبلشر ماہنامہ انصار اللہ نے پیش کیا۔سپاسنامہ کے بعد مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ سب کارکنان کے شکر گزار ہیں۔مجلس کے سب کا رکنان جو موجود ہیں یا موجود نہیں ، سب نے میرے ساتھ نہایت محنت بھرے انداز میں تعاون کیا۔بہتر کارکردگی میں کارکنان مجلس کا بڑا دخل ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو آئندہ اس سے بہتر خدمت کی توفیق دے۔آخر پر محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے دعا کروائی اور یہ با برکت تقریب اختتام کو پہنچی۔﴿۳۷﴾