تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 577 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 577

۵۷۷ امتحان لیا گیا۔دینی معلومات کے تحریری امتحان اور زبانی انٹرویو کے نتیجہ میں سال ۹۷-۱۹۹۶ء کیلئے درج ذیل دو ہونہارا طفال کا انتخاب کیا گیا۔اول مکرم بلال احمد صاحب ابن مکرم ظفر احمد صاحب دار الرحمت شرقی الف۔ربوہ دوم مکرم عمران قمر صاحب ابن مکرم مقبول احمد صاحب سانگلہ ہل ضلع شیخو پوره اول و دوم رہنے والے ان دونوں اطفال کیلئے محترم صدر صاحب مجلس انصاراللہ نے بالترتیب بارہ سوروپے اور چھ سوروپے کی انعامی رقوم بطور سالا نہ تعلیمی منظور فرما ئیں۔﴿۲۳﴾ محدود شوری ۱۹۹۶ء حضور کی اجازت سے ۱۹۹۶ء کی محدود شوری مورخہ ۱۵ نومبر بروز جمعہ ہال مجلس انصار اللہ پاکستان میں منعقد ہوئی۔کل ۱۹۶ نمائندگان نے شمولیت کی۔ان میں مرکزی نمائندگان بھی شامل ہیں۔شوریٰ کا اجلاس صبح ۹ بجے شروع ہوا اور تلاوت، عہد اور دعا کے بعد ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا۔بعد نماز جمعہ دوسرا اجلاس ہوا۔جس میں مرکزی قائدین نے عہدیداروں کو اپنی قیادتوں کے جائزے پیش کئے اور ہدایات دیں۔احمدیت کے مایہ ناز فرزند مکرم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی رحلت جماعت احمدیہ کے مایہ ناز فرزند، نوبل انعام یافتہ عظیم سائنسدان اور پاکستان کے قابل فخر سپوت مکرم پروفیسر ڈاکٹر محمد عبد السلام صاحب مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۹۶ کو بعمر ستر سال رحلت فرما گئے۔آپ ۲۹ جنوری ۱۹۲۶ء کو پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد حضرت چوہدری محمد حسین صاحب جھنگ شہر کے ایک مخلص اور فدائی احمدی تھے جنہیں امیر جماعت احمد یہ جھنگ کی حیثیت سے خدمت سلسلہ کی توفیق ملی۔جھنگ کی ابتدائی تعلیم سے لے کر گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے تک آپ نے اول پوزیشن کا اعزاز حاصل کیا۔کیمبرج یونیورسٹی میں اپنی غیر معمولی استعداد کی بناء پر چھ سال کا تعلیمی دور صرف تین سال میں مکمل کیا۔محترم ڈاکٹر صاحب کچھ عرصہ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں صدر شعبہ ریاضی کی حیثیت سے تدریسی فرائض ادا کرتے رہے اور پھر امپیریل کالج لندن میں پروفیسر مقرر ہوئے۔آپ اس کالج میں شعبہ کے صدر مقرر ہوئے اور اس دوران کئی ممالک میں محققانہ لیکچر دیئے۔۱۹۵۹ء میں ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز حسن کارکردگی اور ۱۹۷۹ء میں نشان امتیاز ( پاکستان ) کے علاوہ متعدد ممالک سے ایوارڈ دئے گئے۔اسی طرح آپ اقوام متحدہ اور پاکستان میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔۱۹۶۱ ء تا ۱۹۷۴ء مشیر اعلیٰ سائنس صدر مملکت پاکستان رہے۔آپ کی خدمات اور اعزازات کی ایک طویل فہرست ہے۔ٹریسٹ اٹلی میں آپ نے ایک ادارہ قائم کیا جس کے ذریعہ تیسری دنیا کے سائنسدانوں نے استفادہ کر کے اپنے اپنے ملکوں کو فائدہ پہنچایا۔آپ نے بہت سارے سائنس سکالرز