تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 34
۳۴ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر فرمایا اور اس کی حمد بیان فرمائی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوں کی حرمت ، عزت کی حرمت اور مال کی حرمت کا ذکر فرما کر اس بات کی تلقین فرمائی کہ اس سلسلہ میں کوئی کوتا ہی نہ برتی جائے اور فرمایا کہ ان چیزوں کا اسی طرح احترام کرنا لازمی ہے جس طرح اس جگہ اور اس مہینے کا احترام کیا جاتا ہے۔خاوندوں کو یہ بات یاد دلائی کہ بیویوں کے ان پر حقوق ہیں اور بیویوں کو یہ کہ خاوندوں کے ان پر حقوق ہیں۔یعنی ان کی ادائیگی گویا کہ لازمہ دین ہے اور ان کی ادائیگی میں خاص بات جو ملحوظ رکھنے والی ہے وہ محبت کا سلوک ہے۔غلاموں کے متعلق تلقین فرمائی کہ ان کو وہی کچھ کھلایا پلایا اور پہنایا جائے جو آپ کھاتے پیتے اور پہنتے ہیں۔نسلی امتیاز کے قلع قمع کے لئے حضور نے فرمایا کہ عربی کو عجمی پر اور مجھی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم خاک سے پیدا کیا گیا تھا۔یعنی خاکساری انسانیت کا خاصہ ہے اور اسے اپنا نا اشد ضروری۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور وہ ایک اخوت میں منسلک ہیں۔میں آپ کے درمیان وہ چیز چھوڑ کے چلا ہوں یعنی قرآن کریم کہ اگر تم اس کے ساتھ منسلک رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہونے پاؤ گے۔آپ کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک مان کر اس کی عبادت کرو۔پنجوقتہ نماز ادا کرو۔رمضان کے روزے رکھو۔میری اطاعت کرتے رہو۔یعنی میں نے دین کے سلسلہ میں جو کچھ دیا ہے اس پر عمل پیرا ہو۔یہ بات آپ کو جنت میں لے جانے کا باعث بنے گی۔ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے جسے ہم تربیت بھی کہہ سکتے ہیں، کس حد تک مستفید اور مستفیض ہو رہے ہیں۔یہ ہمارے اپنے غور کرنے کی بات ہے۔اگر ہم اس تربیت سے حصہ پارہے ہیں تو الحمد للہ کہ یہی زندگی کا مقصود منتہا ہے اور اگر اس میں کوئی کمی نظر آتی ہے تو ہمارے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔(۱۲) ساقی کوثر - حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مندرجہ بالا موضوع پر خطاب کرتے ہوئے محترم مولانا چراغ دین صاحب مربی سلسلہ پشاور نے فرمایا: سورۃ کوثر قرآن مجید کی سب سے چھوٹی سورۃ ہے۔یہ سورۃ سور کا ئنات فير موجدات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُس وقت نازل ہوئی تھی جب حضور دعویٰ نبوت کے بعد مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے اور مشرکین مکہ کے مظالم زوروں پر تھے۔وہ آپ کو تبلیغ سے روکتے تھے۔کمزور اور نہتے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہو رہا تھا۔عرب جیسے جاہل اور آزاد ملک میں قریش جیسی قوم جو جو مظالم بھی کمزور مسلمانوں پر روا رکھ سکتی تھی ، وہ سب اس نے کئے۔انہی مصائب و آلام کے ایام میں خدائے قادر و توانا نے سورہ کوثر نازل فرمائی اور اپنے پیارے محبوب اور اس کے صحابہ کرام کو آنے والے حالات سے آگاہ کیا کہ دشمن کو بانگ دہل یہ سنا دو کہ اے کفار مکہ!