تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 513
۵۱۳ نے اہم خدمات سرانجام دیں اور گیمبیا کے گورنر جنرل ایف۔ایم سنگھاٹے کے قبول احمدیت کے بعد آپ ہی کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈنے کا اعزاز نئے احمدی سر براہ حکومت کے حصہ میں آیا اور یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔66 بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ آپ سلسلہ کے مخلص فدائی ، بڑے عبادت گزار، مستجاب الدعوات ، بے نفس اور دعا گو بزرگ تھے۔آپ نے کئی کتابیں بھی تصنیف فرما ئیں۔گیمبیا سے واپس آنے کے بعد آپ کو سیکرٹری مجلس نصرت جہاں، ممبر مجلس افتاء ، مرکزی قاضی اور زعیم اعلیٰ انصار اللہ ربوہ کے طور پر کام کرنے کی توفیق ملی اور اب کئی سال سے آپ جامعہ احمدیہ میں بطور استاد خدمت دین میں مصروف تھے۔وفات محترم مولانا غلام باری صاحب سیف سلسلہ کے جید عالم، قدیمی خادم سلسله مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف ۱۳ جولائی ۱۹۹۳ء صبح ساڑھے سات بجے حرکت قلب بند ہونے سے انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔محترم مولانا صاحب اکتوبر ۱۹۲۰ء میں حکیم چراغ دین صاحب کے ہاں قادیان سے جانب شمال مشرق سات میل کے فاصلہ پر مشہور قصبہ ہندوان میں پیدا ہوئے۔آپ پانچ سال کے تھے کہ آپ کے والد محترم حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دست مبارک پر بیعت سے مشرف ہوئے۔۱۹۳۳ء میں مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں داخل ہوئے۔۴ ستمبر ۱۹۴۲ء کو وقف منظور ہوا۔آپ مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ مرکز یہ اور مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ کے فعال ممبر رہے ، دار القضاء اور مجلس افتاء کے ممبر کی حیثیت سے خدمت کرنے کی سعادت ملی۔قرآن پبلیکیشنز کے بورڈ کے گورنر بھی مقرر ہوئے۔آپ رسالہ انصار اللہ کے تقریباً پانچ سال تک ایڈیٹر رہے۔(1) سالانہ اجتماع ۱۹۹۳ء ۱۹۹۳ء میں مرکزی سالانہ اجتماع منعقد کرنے کے لئے قائد صاحب عمومی کی طرف سے ڈپٹی کمشن جھنگ کو درخواست دی گئی جسے سابقہ دستور کے عین مطابق ضلعی انتظامیہ نے مستر د کر کے ہزاروں انصار کے دلوں کو چھلنی کر دیا اور ایک مرتبہ پھر انصار کی یہ خواہش کہ وہ مرکز سلسلہ میں حاضر ہوں اور تین دن خالص دینی ماحول میں گزار کر انوار و برکات الہیہ سمیٹ سکیں ، حکومت وقت کے ظالمانہ حکم کی نذر ہوگئی۔ڈپٹی کمشنر ضلع جھنگ جناب اعتزاز الرشید صاحب کی طرف سے جاری کردہ اس حکم نامے کی نقل درج ذیل ہے :