تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 511 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 511

۵۱۱ جن لوگوں سے جماعت کا گہرا رابطہ ہوا ، ان میں با اثر لوگ غرباء اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے سبھی قسم کے لوگ شامل ہیں۔شعبہ ایثار کوطبی خدمت کے حوالے سے ایسے مقامات پر پہنچنے کی توفیق ملی جہاں کبھی حکومت کا کوئی نمائندہ پہنچا اور نہ ہی پبلک کا کوئی آدمی وہاں گیا تھا۔سال ۱۹۹۶ء میں مرکزی طور پر ۳۰ فری میڈیکل کیمپس لگائے گئے۔بعض مریضوں کے لیے حضرت خلیفہ امسیح الرابع سے بھی نسخہ جات منگوائے گئے۔شعبہ ایثار کے تحت ہونے والی مساعی کی رپورٹ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں بھجوائی جاتی رہی اور حضور کی طرف سے اظہار خوشنودی کے جواب بھی موصول ہوئے۔اظہار خوشنودی سید نا حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے ۱۳ اپریل ۱۹۹۲ کوتحریر فر مایا: ” میڈیکل کیمپس کے ذریعہ آپ لوگ ما شاء اللہ بہت اچھی خدمتیں کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور توقع سے بڑھ کر ان کے نیک نتائج ظاہر فرمائے۔“ اسی طرح ۲۶ فروری ۱۹۹۶ء کے خط میں فرمایا: ”آپ کی رپورٹ محررہ ۹۶-۱-۸ بابت میڈیکل کیمپ موصول ہوئی۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اللہ تعالیٰ آپ کے کام میں برکت دے اور بے شمار فضلوں سے نوازے اور آپ سب کو حکمت سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔تمام معاونین کو بہت بہت محبت بھرا سلام۔خدا حامی و ناصر ہو۔“ پھر حضور نے ۲۷ فروری ۱۹۹۶ء کے محررہ خط میں فرمایا: انصار اللہ کی طرف سے جو میڈیکل کیمپس شروع کئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہر لحاظ سے کامیاب کرے اور انکے بہترین نتائج بر آمد کرے۔“ ۲۲ جولائی ۱۹۹۶ ء کو میڈیکل کیمپس کی رپورٹ پیش ہونے پر فرمایا : جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔ماشاء اللہ بہت عمدہ کام ہوا ہے۔“ وفات حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر حضرت شیخ صاحب، حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی ( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے ہاں ۱۸۹۶ء میں پیدا ہوئے۔آپ کو یہ شرف حاصل تھا کہ آپ کا نام حضرت مسیح موعود نے خود تجویز فرمایا تھا اور د عادی لڑ کا نوزاد مبارک ہو۔اس کا نام محمد احمد رکھ دیں۔خدا تعالی با عمر کرے۔“ آپ نے قانون کی تعلیم حاصل کر کے وکالت کو بطور پیشہ اختیار فرمایا، آپ ماہر قانون دان تھے اور