تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 431
۴۳۱ یہ مختلف مشورے ہیں جو سارے ہی قابل قبول ہیں لیکن تھوڑے وقت میں ان کو یکجا نہیں کیا جاسکتا۔ایک سکیم اور منصوبہ کی شکل نہیں دی جا سکتی۔اگر نمائندگان اتفاق کریں تو مکرم نعیم احمد خان صاحب ناظم ضلع کراچی کی تجویز کے مطابق کہ مجلس مرکز یہ اس غرض کے لئے ایک کمیٹی مقرر کر دے جو اس سارے مواد کوسموکر پھر منصوبہ بنائے اور حضورانور سے منظوری لے۔اس پر سب نمائندگان نے اتفاق کیا۔تجویز نمبر پر بحث کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح کے مقررہ کردہ نمائنده محترم صوفی بشارت الرحمن صاحب کی زیر صدارت آئندہ تین سال کے لئے صدر مجلس و نائب صدر مجلس کے انتخاب کی کارروائی عمل میں آئی۔اس کے بعد صد رمحترم نے مکرم قائد صاحب مال کو ایجنڈا کی تجویز نمبر۴ کے مطابق مجلس انصاراللہ پاکستان کا بجٹ بابت سال ۱۹۹۲ء/ ۱۳۷۱ هش پیش کرنے کی ہدایت فرمائی۔بجٹ کے پیش ہونے کے بعد اس پر اظہار خیال کے لئے نام طلب کئے گئے۔کوئی نام پیش نہ کیا گیا۔محترم صدر صاحب نے نمائندگان سے رائے لی کہ کیا اپنی پیش کردہ بجٹ منظور ہے اس پر سب نمائندگان نے متفقہ طور پر بجٹ منظور کئے جانے کے بارہ میں رائے دی۔اس کے بعد ایجنڈا کی تجویز نمبر ۲ پر اظہار خیال کے لئے نام طلب کئے گئے مندرجہ ذیل نمائندگان نے خیالات کا اظہار کیا۔مکرم مولانا محمد اسمعیل منیر صاحب قائد اصلاح وارشاد نے قیادت کی طرف سے پیش کردہ لائحہ عمل کے بارہ میں تفصیل بیان کی اور تجویز کی کہ (۱) مجالس اپنے اپنے بجٹ بھجوائیں۔یکم جولائی سے ۳۰ جون تک بجٹ کا سال ہے۔(۲) بزم ارشاد کا اجلاس ہر ماہ بلایا جائے۔نظارت دعوت الی اللہ کی طرف سے شائع کردہ داعی الی اللہ کے رپورٹ کارڈ پر انفرادی کارگزاری نوٹ کی جائے اور بزم ارشاد میں پیش کی جائے۔زعیم مجلس کو بھی نوٹ کروایا جائے۔(۳) مرکزی تربیتی کلاس میں نمائندگان بھجوا کر فائدہ اٹھایا جائے زیر دعوت دوستوں کو ساتھ لائیں۔(۴) دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں سیمینار منعقد کئے جائیں۔(۵) مجالس سوال و جواب منعقد کی جائیں۔(۶) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی یہ تمنا کہ حضور کے عہد مبارک میں ایک کروڑ بیعتیں ہوں ، دوستوں کو بتا ئیں اور دعا کریں۔مکرم نصر اللہ خان ناصر صاحب ربوہ۔(۱) ہر احمدی کے دل میں دعوت الی اللہ کا جذبہ پیدا کیا جائے۔(۲) تعلق باللہ۔نیک نمونہ۔دعاؤں پر زور دیا جائے۔(۳) داعیان کے علمی معیار کو بلند کرنے کے لئے تربیتی کلاسز کا انعقاد ہو۔مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب۔(۱) حضور کے ارشاد کی تعمیل میں مجلس عاملہ کا مہینہ میں ایک اجلاس ہو جس میں سرفہرست دعوت الی اللہ کو رکھا جائے۔(۲) نائب ناظم اصلاح و ارشاد اور نائب زعیم کو اپنے شعبہ سے واقفیت نہیں۔انہیں واقفیت کروائی جائے۔(۳) عہدیداران اپنا عملی نمونہ قائم کریں اور یہ احساس پیدا ہونا چاہیئے کہ ہم سب اصلاح وارشاد کے معاملہ میں خدا تعالیٰ کے آگے جواب دہ ہیں۔