تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 374
۳۷۴ تقریر کی۔اسی دوران مجلس سوال و جواب ہوئی۔مکرم سید احمد علی شاہ صاحب نے جوابات دئیے۔اس کے بعد خطبه جمعه مکرم مولوی سلطان محمود صاحب انور نے دیا۔اجلاس عام (دوم): اس اجلاس میں مکرم مربی صاحب بدین، مکرم شیخ مبارک احمد صاحب اور مکرم مولا نا سید احمد علی شاہ صاحب نے تقاریر کیں۔حاضری مرد وزن نوسو با ؤن تھی۔تاریخ : ۲۳ فروری ۱۹۹۰ء مقام : نوکوٹ ضلع تھر پارکر مختصر رپورٹ : اجلاس عام : بعد نماز عشاء اجلاس عام ہوا جس میں احباب ومستورات شامل ہوئے۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے حضور کے خطبہ فرمودہ ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ ء کی روشنی میں تقریر کی اس کے بعد سید احمد علی شاہ صاحب نے دعوت الی اللہ اور نمونہ بہتر بنانے کی طرف توجہ دلائی۔حاضری ۴۵ تھی۔تاریخ : ۲۴ فروری ۱۹۹۰ء مقام: نصرت آباد مختصر رپورٹ : نماز فجر و درس قرآن کریم: نماز فجر کی ادائیگی کے بعد درس قرآن کریم اور مجلس سوال وجواب ہوئی۔مکرم زعیم صاحب کو جائزہ کے مطابق کام کی طرف توجہ دلائی گئی۔حاضری ہیں تھی۔اجلاس زعماء : اابجے صبح اجلاس زعماء ہوا جس میں نو زعماء شامل ہوئے اس کے علاوہ ضلعی عاملہ کے عہد یدار بھی شامل ہوئے۔۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء کے خطبہ کی روشنی میں ہدایات دیں۔دیگر شعبہ جات کا جائزہ لیا گیا۔مقام : نفیس نگر تاریخ : ۲۴ فروری ۱۹۹۰ء مختصر رپورٹ : اجلاس عام : بعد نماز ظہر، عصر اجلاس ہوا جس میں مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے دعوت الی اللہ کی ادائیگی اور تلاوت کی طرف توجہ دلائی۔بعد ازاں سید احمد علی شاہ صاحب نے تقریر فرمائی۔اس موقع پر دو خاندانوں نے احمدیت قبول کی۔حاضری دس تھی۔تاریخ : ۲۴ فروری ۱۹۹۰ء مقام : کریم نگر مختصر رپورٹ : اجلاس عام : نماز مغرب وعشاء کے بعد اجلاس عام ہوا۔مکرم قائد وقف جدید صاحب نے حضور کے خطبہ جمعہ فرموده ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء کی روشنی میں تقریر کی۔مکرم سید احمد علی شاہ صاحب نے بھی مزید اس طرف توجہ دلائی۔حاضری ایک سو پانچ تھی۔تاریخ: ۲۵ فروری ۱۹۹۰ء مقام محمد آباد مختصر رپورٹ : اجلاس عام : نماز فجر کے بعد اجلاس عام ہوا اس میں آپس کے جھگڑے ختم کرنے ، نظام جماعت کے ساتھ وابستگی اور محبت کی طرف توجہ دلائی۔حاضری بہتر تھی۔تاریخ: ۲۵ فروری ۱۹۹۰ء مقام: کنری مختصر رپورٹ: اجلاس زعماء : زعماء کو پانچ بنیادی اخلاق، دعوت الی اللہ اور نماز کی طرف توجہ دلائی۔حاضری نو تھی۔مختصر رپورٹ : اجلاس عام : بعد نماز ظہر اجلاس میں مکرم شیخ صاحب اور مکرم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب نے