تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 354 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 354

۳۵۴ بعد مکرم قائد صاحب عمومی نے تربیت اولاد کے موضوع پر تقریر کی۔اس کے بعد صدر محترم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری تربیتی کوششوں کا بڑا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اسلام اور احمدیت کی حقیقی روح حاصل ہو جائے اور اس کا بڑا ذریعہ دعا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے ایسی دعاؤں کی توفیق دی جس سے مردے زندہ ہو گئے۔آپ کی قبولیت دعا کے نشانات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دعا کے لئے نمازیں ذریعہ ہیں۔اور نماز با جماعت کی پابندی ضروری ہے۔اور پھر نماز با جماعت کے بارہ میں واقعات بیان فرمائے جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کی زندگی کے واقعات شامل کئے۔شرائط بیعت میں سے تیسری شرط میں بیان کردہ پانچ باتوں کا تفصیل سے ذکر فر مایا اور ان کی پابندی کرنے کی تلقین فرمائی کہ اپنا عملی نمونہ ایسا بنا ئیں کہ جسے دیکھ کر دنیا کو ہدایت ملے اور کسی کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ ہوا اور احمدیوں کو اپنے اخلاق کے لحاظ سے منفرد ہونا چاہئیے۔اگر اسلام اور احمدیت کی حقیقی روح پیدا ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تھوڑی تعداد بڑی جماعتوں پر غالب آ جایا کرتی ہیں۔آخر میں آپ نے جلسہ سالانہ انگلستان کے بخیر و خوبی انعقاد کے بارہ میں بتاتے ہوئے دوسرے دن کی حضور انور کی تقریر کا خلاصہ بیان کیا اور جماعت پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا تذکرہ فرمایا۔شروع میں جب نمازیں ادا کی جا رہی تھیں کہ بجلی بند ہو گئی اس کے باوجود تمام دوستوں نے بڑے نظم و ضبط کا مظاہرہ فرمایا اور پونے آٹھ بجے جلسہ کی کارروائی شروع کر دی گئی۔اجلاس اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کامیاب رہا۔مقامی مجلس کے علاوہ مجلس نصیر پور، مجلس ادرحمہ وغیرہ کے انصار اور خدام اور اطفال بھی کثیر تعداد میں شامل ہوئے مقامی جماعت نے باہر سے آنے والے مہمانوں کے لئے کھانے کا اہتمام بھی کیا ہوا تھا۔مجموعی حاضری درج ذیل تھی۔انصار ساٹھ ، خدام باسٹھ ، اطفال پینسٹھ ، لجنات پینتالیس ، کل تعداد دوسو بتیں۔رات قریباً ساڑھے گیارہ بجے وفد کی ربوہ واپسی ہوئی۔وفات محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ۱۹ستمبر ۱۹۹۰ء کو وفات پا گئے۔آپ کیکم فروری ۱۹۱۸ء کو حضرت سیّدہ ام ناصر صاحبہ کے بطن کے تولد ہوئے۔چوبیس سال تک فضل عمر ہسپتال کے چیف میڈیکل افسر ر ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ کے عہد یدار کے طور پر بھی لمبا عرصہ خدمات انجام دیں۔جن ایام میں صدر خدام الاحمدیہ کا عہدہ سیّد نا حضرت مصلح موعود کے پاس تھا ، پانچ سال آپ کو بطور نائب صدر کام کرنے کا موقع ملا۔مجلس انصار اللہ مرکزیہ میں ۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۹ء بطور قائد ایثار، ۱۹۷۰ ء تا ۱۹۷۸ء قائد ذہانت وصحت جسمانی اور ۱۹۷۹ء تا دم واپسیں بطور رکن خصوصی