تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 353 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 353

۳۵۳ صدر محترم نے خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے واپس تشریف لاتے تو فرمایا کہ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آئے ہیں۔یعنی جنگ چھوٹا جہاد اور تربیت نفس بڑا جہاد ہے۔تبلیغی جہاد خاموش رنگ میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ہنگامی کاموں میں لٹریچر کی اشاعت ہو اور ان کو گھروں میں پہنچایا جائے۔آج کل کے ماحول میں دوسری تحریکیں چل رہی ہیں۔ان کا بھی اثر ہے۔ان سے بچانے کے لئے متبادل پروگرام بنانے چاہئیں۔آج کل بچے ٹی وی کے سامنے سے نہیں اٹھتے۔وقت مقرر کرنا چاہئیے۔وقت کا ضیاع کنٹرول کرنے کا سوال ہے۔اس طرح احمدی ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے۔ڈیڑھ دوصد عہدیداران کو اپنی فیملی کی اصلاح و تربیت کے لئے پابند کریں تو دوسروں پر اثر ہوگا۔کشتی نوح میں تعلیم کا حصہ پڑھ لیں اور اس کو اپنا لیں تو سب کچھ آ جاتا ہے۔ملفوظات کا درس بھی جاری رکھیں۔صدر محترم نے اس موقع پر جماعتی تربیت کا کتا بچہ شائع کرانے کے لئے مکرم ناظم صاحب ضلع کو دیا۔بعد محترم صدر صاحب نے فرمایا کہ دعوۃ الی اللہ کی کراچی میں کمی ہے۔غیر از جماعت احباب سے رابطہ میں کمی ہے۔مکرم نعیم احمد خان صاحب ناظم ضلع کراچی نے کہا کہ حضور انور کے ارشاد کی روشنی میں محترم امیر صاحب کراچی کی منظوری سے پندرہ سو عید کارڈ رابطہ کے لئے غیر از جماعت دوستوں کو عیدالفطر سے چند دن قبل ارسال کئے گئے۔اس کا RESPONSE بھی ملا مجلس عزیز آباد نے غیر از جماعت دوستوں کے پستہ جات حاصل کئے۔صدر محترم نے فرمایا کہ دعوت الی اللہ کے کئی ذرائع ہیں۔خط و کتابت، لٹریچر اور ذاتی ملاقاتیں شامل ہیں۔براہ راست ملاقات کے بعد RESPONSE کا علم نہیں ہوتا۔ربوہ میں مجلس علم وادب‘ قائم ہوئی۔اس میں شمولیت کے لئے غیر احمدیوں کو لانے کے لئے بڑی کوشش کرنی پڑتی ہے۔صدر محترم نے فرمایا کہ جماعت نے قرآن کریم اور دیگر لٹریچر سندھی زبان میں شائع کیا ہے۔انصار اللہ اسے تقسیم کرائے۔” نظام نو میں حضور نے فرمایا کہ اصل نظام وصیت کا ہے اور ممالک میں تحریک جدید کے ذریعہ وصیت کا نظام پھیلا ہے۔تحریک جدید کا صحیح جذ بہ یہ ہے کہ اپنی ضرورت کاٹ کر اس میں حصہ لیں۔اس نقطہ نگاہ سے تحریک جدید کو پیش کرنا چاہئیے۔مرحوم بزرگوں کی طرف سے چندہ تحریک جدید کے وعدے حاصل کریں۔آخر میں اجتماعی دعا کے بعد عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر ہوا۔دوره صدر محترم تخت ہزارہ ضلع سرگودھا صدر محترم چوہدری حمید اللہ صاحب، مکرم محمد اسلم شاد صاحب قائد عمومی اور مکرم غلام حسین کا رکن دفتر انصار اللہ کی معیت میں ۱۲ اگست ۱۹۹۰ء بروز اتوار تخت ہزارہ ضلع سرگودھا تشریف لے گئے۔پانچ بجے شام ربوہ سے روانگی ہوئی۔قریباً سات بجے تخت ہزارہ پہنچے۔نماز مغرب اور عشاء کی ادائیگی کے بعد اجلاس کی کارروائی پونے آٹھ بجے شروع ہوئی۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا۔عہد اور نظم کے