تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 346
۳۴۶ ہے اور جب کانشس مائنڈ CONSCIOUS MIND نے یعنی آخری احساس جسے ہم شعور کہہ سکتے ہیں، اس نے جب ایک نظام مکمل کر لیا اور اس کی خوب ایسی نگرانی کی کہ وہ اپنی ذات میں جاری وساری ہو گیا تو اس کی توجہ پھر اگلے قدم کی طرف خدا نے پھیری اور جو پہلا حصہ تھا ، اس کو لاشعور دماغ بنا دیا۔وہ اسی دماغ کا حصہ تھا لیکن دب کر نیچے اتر آیا اور اس وقت تک یہ واقعہ نہیں ہوا جب تک سو فیصدی اطمینان اور کمال حسن کے ساتھ وہ حصہ نظام کا جاری نہیں ہوا۔اس پہلو سے جب میں نے انسانی زندگی پر غور کیا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ زندگی کے صرف وہی شعبے شعور کی طرف منسوب ہیں یا شعور سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ابھی درجہ کمال حاصل نہیں ہوا۔جو اپنی ذات میں کلیہ آزادانہ جاری وساری ہونے کی صلاحیت اختیار کر چکے ہیں ، ان کا تعلق بھی دماغ سے ہے مگر لاشعوری دماغ سے رہ گیا ہے شعوری دماغ سے نہیں تو شعوری دماغ کی ترقی کے ساتھ لاشعوری دماغ کی ترقی ہوتی ہے اور یہ ترقی اسی وقت ہوتی ہے جب نظام کا ایک حصہ کامل ہو جائے اور اپنے درجہ کمال کو پہنچ کے مستقل حرکت شروع کر دے کہ اس کے بعد تفصیل سے اس کی نگرانی کی ضرورت نہ رہے۔اس نکتے کا تفصیلی ذکر اس لئے ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ میں بھی کام بڑھنے کے ساتھ یہی واقعہ ضرور ہونا ہے اور بعض پہلوؤں سے ہو رہا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کا شعور بغیر زیادہ بوجھ اٹھائے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے تو جن باتوں میں وہ شعور توجہ کا محتاج ہے ان میں اس کی توجہ پر بوجھ کم کرنے کے لئے اس نظام کو کامل کر دیں اور خودرو بنا دیں۔جتنا نظام درجہ کمال کو پہنچتا چلا جائے گا اور خودرو ہوتا چلا جائے گا خلیفہ کی براہ راست توجہ کا محتاج نہیں رہے گا۔اور اس کی توجہ جو سابق میں تھی یا کئی خلفاء کی توجہ جو سابق میں رہی ان کا مجموعی فائدہ جماعت کو یہ پہنچے گا کہ اپنی ذات میں وہ نظام چل پڑے گا اور الا ماشاء اللہ شعوری دخل کی ضرورت نہیں رہے گی اور پھر وہ شعوری دماغ اور حصوں کی طرف توجہ کرنے کے لئے آزاد ہوتا چلا جائے گا۔اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے گذشتہ خطبے والا مضمون میرے ذہن میں پھر حاضر ہو گیا۔جب میں نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ بتایا ہے کہ ہم نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا، اسے مسخر کیا، اس کو کامل کیا اور جب وہ درجہ کمال کو پہنچ گیا اور جاری وساری ہو گیا پھر ہم عرش پر بیٹھ گئے تو یہ بھی ویسی ہی ایک مثال ہے۔انسانی دائرے میں عرش اس آخری دماغ کو کہہ سکتے ہیں ، دماغ کے اس آخری حصے کو کہہ سکتے ہیں، آخری نقطہ عروج کو کہہ سکتے ہیں جس پر روح مسلط ہے اور اس کا عرش بھی اسی طرح بنا ہے۔ارب ہا ارب سال کی مسلسل ترقی کے ساتھ رفتہ رفتہ زندگی نے قدم آگے بڑھائے اور ایک نظام کا دائرہ مکمل ہوا تب اس کا اونچا Next قدم