تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 306 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 306

ذریعہ سے ، جان ، مال ، عزت اور وقت کی قربانی کے ذریعہ سے ، دعوت الی اللہ کے لئے نئے نئے راستے اور میدان تلاش کرنے کے ذریعہ سے بنی نوع انسان کو اس چشمہ سے فیضیاب کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم یک قطره ز بحر کمال محمد است جماعت کا اپنی زندگی کے سوسال پورا کرنا اور اپنی زندگی کی دوسری صدی میں داخل ہونا،اگر ایک دوسری جہت سے دیکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بُعدِ زمانی کی نشان دہی کرتا ہے۔اس لئے اراکین انصار اللہ کو اس بات کا بھی عہد کرنا ہے کہ وہ ایسے پروگرام بنا ئیں جن کے نتیجہ میں وہ اور اُن کی آئندہ نسلیں اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب محسوس کریں اور اس کا ایک بہت بڑا ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں، آپ کی سیرت اور جماعت کی تاریخ کا مطالعہ ہے جس کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر اس جہت سے کہ نئی نسلوں کو اس مطالعہ کی عادت پڑ جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء مبارک اور جماعت سے آپ کی توقعات ان کے وجودوں کا حصہ بن جائیں اور وہ ہمیشہ ان توقعات کو پورا کرنے والے ہوں اور وہ جہاں بھی ہوں اس چشمہ کرواں سے جاری ہونے والے دھارے ہمیشہ ان کے دلوں کے اندر بہتے رہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب افراد جماعت کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔اُن کا حافظ و ناصر ہو اور اُن کی دعاؤں کو قبول فرمائے۔اُن کی سب مشکلات کو دُور فرمائے۔ان کے بوجھوں کو ہلکا کرے۔ان سے راضی ہو جائے۔ہماری بھی دُنیا و آخرت سنوار دے اور ہماری آئندہ نسلوں کی بھی دنیا و آخرت محض اپنے فضل سے سنوار دے۔آمین والسلام مرزا طاہر احمد خلیفہ ایسیح الرابع دوره جات مرکزی نمائندگان 66 ۳۱-۱۰-۸۹ سال گزشتہ کی طرح اس سال بھی مرکز سے قائدین ، علماء کرام اور دیگر نمائندگان کو مجالس میں منظم شکل میں بھجوا کر تر بیتی دورہ جات کروائے گئے۔اجتماعی طور پر اس کی بعض مختصر رپورٹس درج کی جاتی ہیں۔