تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 117
طرح مسلمان اذان دیتے ہیں تو اسے ایک ہی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہوگا۔۲۹۸۔قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ ( جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں ) کا کوئی شخص جو بالواسطہ یا بلا واسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا کسی مرئی طریقے سے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے تو اس کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا “۔خصوصی انتظام برائے رابطہ مجالس ۱۹۸۴ء کے پُر آشوب حالات کی وجہ سے ضروری تھا کہ مجالس کے ساتھ رابطوں کو از سر نو تر تیب دیا جاتا۔ان حالات میں جماعتی اداروں اور افراد نیز خط و کتابت پر گہری نظر حکومت کی طرف سے رکھی جا رہی تھی۔ہنگامی حالات کی بناء پر یہ احتیاط بھی کی جاتی تھی کہ ڈاک یا ٹیلی فون کے ذریعہ مجالس کو اطلاع نہ دی جائے بلکہ فرداً فرداً خصوصی پیغام بر کے ذریعہ ذاتی رابطہ کیا جائے۔چنانچہ مرکز سے خصوصی نمائندگان اضلاع میں تشریف لے جا کر ناظمین اضلاع کو اطلاع دیتے جو اپنی خصوصی نگرانی میں اپنی اپنی مجالس میں اطلاع دینے کے پابند ہوتے۔چنانچہ با وجود مخدوش حالات کے مجالس سے نہ صرف رابطہ رہا بلکہ بفضلہ تعالیٰ مجلس شوریٰ کے لئے بھی اکٹھا ہونے کا موقع مل جاتا۔میٹنگ ناظمین اضلاع اصلاح وارشاد کے حوالہ سے ۱۹ جون ۱۹۸۴ء کو قریبی اضلاع کے ناظمین کی ضروری میٹنگ بلائی گئی۔اس میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، شیخو پورہ ، اوکاڑہ ، جھنگ اور لاہور کے ناظمین شریک ہوئے جس میں تحریری ہدایات کے علاوہ صدر محترم نے وضاحتیں بھی کیں۔خصوصی دورہ جات اسی پر آشوب دور میں مختلف اضلاع میں خصوصی نمائندگان کے ذریعہ پیغامات بھجوائے گئے۔جس کی تفصیل اس طرح ہے مکرم مولانا محمد اسماعیل منیر صاحب : اضلاع ، جہلم، راولپنڈی، ہزارہ، پشاور، اٹک ، اسلام آباد، مردان ، ڈیرہ اسماعیل خان