تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 95
۹۵ ممالک بیرون کے نو مسلم احمدیوں کے ایمان افروز واقعات اس موضوع پر مکرم لئیق احمد صاحب طاہر نے سب سے پہلے امریکہ کے ایک ایسے خاندان کا ذکر کیا جوان دنوں ربوہ میں مقیم تھا۔یعنی بیگم صاحبہ مکرم بی شریف صاحب، ان کے ایک فرزند اور دو دختران۔مکرم بیخی شریف صاحب ایک سفید فام امریکی ہیں۔۱۹۵۸ء میں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ان کی بیوی نے ۱۹۶۷ء میں بیعت کی۔ان کے دولڑ کے اور دولڑکیاں ہیں اور کبھی اسلامی اقدار کا بہترین نمونہ ہیں۔میاں بیوی نے احمدیت قبول کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ہم نے ہر صورت میں اپنی اولا د کو اپنے والدین اور عزیز واقارب کے اثرات سے بچانا ہے چنانچہ انہوں نے اپنے گھر کو خیر بادکہا اور واشنگٹن سے کچھ فاصلہ پر الگ تھلگ مکان میں رہنے لگے اور یہ پوری کوشش کی کہ ہر قسم کے خارجی اثر سے محفوظ رہیں۔اپنی اولاد کی انہوں نے ایسی عمدہ تربیت کی کہ حیرت ہوتی ہے۔گذشتہ ماہ جب یہ فیملی پاکستان آنے لگی تو ہمیں امریکہ سے یہ اطلاع پہنچائی گئی کہ یہ خاندان علم دین کے حصول کے لئے ربوہ آ رہا ہے۔لیکن اس سے قبل خدا کے فضل سے ان کو اسلامی علوم پر بہت دسترس حاصل ہے۔مسز یکی شریف پردہ کی بہت پابند ہیں۔ڈنمارک کا واقعہ ہے۔۱۹۶۷ ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث بیت نصرت جہاں کے افتتاح کے لئے کوپن ہیگن تشریف لے گئے۔افتتاح سے ایک آدھ دن قبل لوکل بس سٹینڈ پر ایک خاتون بس کا انتظار کر رہی تھیں۔اتفاقاً ہوا کے جھونکے کے ساتھ اڑتا ہوا ایک کاغذ ان کی ٹانگ سے چپک گیا۔انہوں نے اسے پڑھا۔یہ بیت کو پن ہیگن کی افتتاحی تقریب سے متعلق ایک اشتہار تھا۔اس خاتون نے وقت نکالا۔حضور کا خطاب سنا اور حضور کا نورانی چہرہ دیکھا حق قبول کر لیا۔پردہ کی ایسی پابند ہیں کہ انہیں مثال کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ان کا اسلامی نام قامتہ ہے اور دن رات اشاعت دین کے فریضہ میں منہمک ہیں۔مکرم مولانا بشیر احمد صاحب قمر گھانا کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رمضان کے کسی جمعہ میں میں نے دعا کی اہمیت بیان کی۔چند دن بعد ایک احمدی نوجوان مسٹر اسحاق آڈا نے مجھے اپنا ایک ایمان افروز واقعہ سنایا کہ میری کچھ زمین تھی اور میں اس میں مکئی کاشت کرنا چاہتا تھا۔اس کے لئے کئی دنوں سے ٹریکٹر حاصل کرنے کی کوشش میں تھا اور تین ہزار سیڈی رقم لے کر ٹریکٹروں کے مالکان کے پیچھے پھرتارہا لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔بالآ خر آپ کا خطبہ سننے کے بعد میں نے ٹریکٹروں کے مالکان کے پیچھے پھرنا چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا شروع کر دی چنانچہ دو تین بعد ایک نو جوان میرے پاس آیا جو میرا معمولی واقف تھا۔اس نے ملتے ہی کہا کہ مسٹر اسحاق میں کاٹن ڈیویلپمنٹ بورڈ کے فارم سے واپس آرہا تھا کہ میں نے آپ کی وہ زمین دیکھی جس پر آپ نے گذشتہ سال کاشت کی تھی کہ وہ یونہی پڑی ہوئی ہے تو میرے دل میں شدید تحریک ہوئی اور میں نے آپ کی زمین میں دہرا ہل چلا دیا ہے۔اب آپ ایک ہزار سیڈی کاٹن ڈیویلپمنٹ بورڈ کے حساب میں جمع کروادیں اور جا کر مکئی پیج دیں کیونکہ آپ کی زمین تیار ہے۔مسٹر اسحاق آڈا عیسائیوں سے مسلمان ہوئے ہیں۔ان کے عزیز واقارب اور والدہ کٹر عیسائی ہیں۔