تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1041 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1041

۱۰۴۱ یہی وہ مقام ہے جس کے بارہ میں عیسائیوں نے تسلیم کیا کہ یہاں احمدیت نے بڑی مضبوطی کے ساتھ قدم جمائے ہیں اور عیسائیت کے لیے سب سے بڑی روک ثابت ہوئی ہے جس نے عیسائیت کے آگے بند باندھ دیا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ پہلے جس رفتار کے ساتھ جماعت نے ترقی کی تھی وہ رفتار اسی شان کے ساتھ قائم نہیں رہی اور درمیان میں ایک عرصہ جمود اور خلاء کا ایک ایسا منظر پیدا کر رہا ہے کہ جس طرح ایک خوبصورت اور دلکش سبزہ زار سے سڑک اچانک کسی ویران جگہ میں داخل ہو جائے۔میں نے غور کیا اور سمجھتا ہوں کہ اس غفلت کے دور میں جس میں جماعت کی ترقی کی رفتار ر کی ہے، سب سے بڑی ذمہ داری آپس کے اختلاف کی ہے۔خصوصاً جب مرکزی نمائندوں اور خلیفہ وقت کے نمائندوں کی کامل اطاعت اور محبت میں فرق پڑا اور بعض عناصر نے کئی پہلوؤں سے عدم تعاون کا مظاہرہ کیا تو یہ جماعت بہت سی برکتوں اور فضلوں سے محروم رہ گئی۔الحمد للہ کہ بفضلہ تعالیٰ جماعت اب ایک نئے موڑ میں داخل ہو گئی ہے جو اس درمیانی عرصہ کی تلخی کو مٹانے والا اور نئی شاہراہوں اور دلکشیوں کے پیغام لے کر آیا ہے اور ایک نئی تازگی جماعت میں پیدا ہو رہی ہے۔کثرت کے ساتھ سیرالیون کے مخلصین جو مجھے خطوط لکھ رہے ہیں ان میں مرکز سلسلہ سے محبت اور تعلق کی روح صاف نظر آ رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کے فضل بھی پہلے سے بہت بڑھ کر دکھائی دیتے ہیں۔نئے نئے داعی الی اللہ نئے ولولوں کے ساتھ ان خوش نصیبوں کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نئی روحانی اولاد عطا فرما رہا ہے اور کامیابی کی نئی راہیں ان کے لیے کھول رہا ہے اور ترقی کی رفتار ایک دفعہ پھر تیز تر ہوتی چلی رہی ہے۔پس آپ جو کہ اللہ کے دین کے انصار ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔آپ پر فرض ہے کہ اس پہلو سے جماعت کی صف اول ثابت ہوں۔ہ ہر وہ بات کریں جس سے آپ کی محبت بڑھے اور تعاون کی رُوح نشو ونما پاتی ہو۔ہ ہر اس بات سے رُک جائیں جس سے کسی بھائی کے بارہ میں غلط فہمی پیدا ہوتی چلی ہو۔ہ ہر وہ ذریعہ اختیار کریں جس سے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کے ساتھ محبت اور اطاعت کا جذبہ بڑھے اور آپ لوگ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کی تصویر بن جائیں۔10اپنی تمام تر طاقتیں دعوت الی اللہ کے اہم فریضہ پر صرف کر دیں۔آج آپ کو صرف عیسائیت ہی سے مقابلہ نہیں کرنا اور بد مذاہب پر اسلام کے غلبہ کو ہی ثابت نہیں کرنا بلکہ ان سازشوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے جو علمائے سوء کی طرف سے رونما ہورہی ہیں اور جن