تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 80 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 80

۸۰ نوٹ : ۱- یہ اجتماع پرائیویٹ احاطہ میں منعقد ہو رہا ہے۔۲۔صدر مجلس کی منظوری سے پروگرام میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔﴿۳۷﴾ افتتاحی اجلاس سیدنا حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالی ساڑھے تین بجے دوپہر مقام اجتماع میں تشریف لائے۔سٹیج سے نیچے اتر کر مرکزی مجلس عاملہ نے حضور کا استقبال کیا۔حضور کی آمد پر سٹیج سے مندرجہ ذیل نعرے لگائے گئے جن کا جواب احباب کرام نے نہایت جوش وجذ بہ سے دیا۔نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔حضرت خاتم الانبیاء زندہ باد۔اسلام زندہ باد۔احمدیت زندہ باد۔حضرت مرزا غلام احمد کی ہے۔انسانیت زندہ باد۔خلافت احمد یہ زندہ باد۔حضرت خلیفتہ اسیح الرابع زندہ باد۔نعروں کے دوران حضور اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔اس کے بعد السلام علیکم کہ کر تشریف فرما ہوئے۔مکرم ڈاکٹر حافظ مسعود احمد صاحب سرگودھا کی تلاوت قرآن کریم سے اجلاس کا آغاز ہوا۔جس کے بعد حضور نے انصار اللہ کا عہدد ہروایا۔پھر محترم چوہدری شبیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا با برکت منظوم کلام ” ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکا یا ہم نے خوش الحانی سے پڑھا۔تین بج کر پچاس منٹ پر حضور اقدس نے اپنا خطاب شروع فرمایا جو چار بج کر اٹھارہ منٹ تک جاری رہا۔اس طرح سے حضور انور نے اٹھائیس منٹ تک خطاب فرمایا۔وو سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الرابع " کا افتتاحی خطاب تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں اللہ تعالیٰ کا بے انتہاء احسان ، فضل اور کرم ہے جس کا شمار ممکن نہیں کہ ہر آن ، ہر گھڑی ، ہر روز، هر شب، سال به سال جماعت احمدیہ کو ترقی پر ترقی دیتا چلا جاتا ہے اور کوئی ایک دن بھی جماعت کی تاریخ میں ایسا نہیں آیا جب کہ جماعت کا قدم کسی بھی پہلو سے پیچھے کی طرف گیا ہو۔خزاں کے دن آتے ہیں تو پت جھڑ ہو جاتی ہے لیکن یہ جماعت ایسی ہے کہ جب خزاں آتی ہے تو اس میں اور بھی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔یہ عجیب جماعت ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر ہمیشہ اور ہر حال میں پہلے سے بڑھتی ہوئی شان کے ساتھ پورا ہوتا چلا جا رہا ہے کہ بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں ا کھلے ہیں پھول میرے بوستاں میں جتنی مخالفت بڑھتی ہے دشمن جتنا بھی جماعت کو دبانے کی کوشش کرتا ہے اتنا ہی جماعت