تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1015 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1015

۱۰۱۵ ١٩٨٣ء مجلس نے ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۵ ء تک جولٹریچر شائع کیا، اس کا ایک گوشوارہ ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔ا - امانت مصنف حضرت مرزا طاہر احمد صاحب۔صفحات ۵۲ - سائز ۱۹×۱۴- تعداد ۱۰۰۰ "Who is the messenger of Akmir Zaman identical with Al-Masih Ibne Maryam" - ۲ مصنف اینچو کی در سو صاحب صفحات ۸ سائز ۸ × ۱۱ تعداد ۳۰۰۰ - How old is the earth مصنف الحاج مولانامحمود احمد صاحب چیمہ صفحات ۸ سائز 21 × 16 تعداد ۱۰۰۰ ۱۹۸۴ء ا - 'The Promised one to every people مصنف الحاج مکرم مولانامحموداحمد صاحب چیمہ صفحات ۷ سائز 10 × 15 تعداد ۱۰۰۰ وو ۲ - The meaning of Khatamannabiyin مصنف الحاج مولانا محمود احمد صاحب چیمہ صفحات ۱۱ سائز 16×10 تعداد ۱۵۰۰ ۱۹۸۵ء ‘Ansarullah to supervise the entire Jammat" سائز ۱۶۔۵×۱۰۔۵ تعداد ۱۰۰۰ حضرت خلیفہ اصبح الرابع رحمہ اللہ تعالی صفحات ۲۸ قلمی دوستی : پچھپیں مجالس کے ایک سوا کا نوے انصار کو قلمی دوستی میں رجسٹر کیا گیا علاوہ ازیں مجلس مرکزیہ کی جانب سے مرسلہ فہرست بھی موصول ہوئی جن میں پاکستان کے دوسود و، ماریشس سے بارہ اور گھانا کے نو انصار شامل تھے۔عطیه چشم: حکومت انڈونیشیا کی طرف سے عطیہ چشم کی مہم میں انصار نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔سات مجالس کے اکسٹھ انصار نے عطیہ دینے کا وعدہ کیا۔پورے انڈو نیشیا کی ایک سو ساٹھ ملین کی آبادی میں سے صرف دس ہزا را فراد نے یہ وعدہ کیا تھا۔اگست ۱۹۸۶ء میں مکرم ای عبدالمنان صاحب ناظم اعلیٰ کو آئی بنگ جا کر تہ کی مجلس عاملہ کا رکن منتخب کیا گیا۔چندہ برائے جماعتی تربیتی مرکز (PUSDIK MUBARAK FUND) کی وصولی: ۸ مجالس کے ایک سو چار افراد نے ۶۳ لاکھ بائیس ہزار پانچ سو( انڈو نیشین ) روپے کی قربانی کا وعدہ کیا۔مرکزی مہمان کی آمد : ستمبر ۱۹۸۴ء میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی خصوصی ہدایت پر مکرم چوہدری احمد مختار صاحب (امیر جماعت کراچی) نے انڈونیشیا کا دورہ کیا۔اس دوران میں آپ نے نائب صدر صاحب مجلس، ناظر صاحب اعلیٰ اور معتمدین کے ساتھ خصوصی میٹنگ فرمائی اور مجلس کی کارکردگی بڑھانے کے سلسلہ میں مفید ہدایت سے نوازا۔