تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 977 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 977

۹۷۷ عزم صمیم ، کام کی لگن اور عمل پیہم پیدا کریں ہماری ذمہ داری بڑھ رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے ایسے نشانات دکھا رہا ہے کہ بنی نوع انسان کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے اور ہم ایک نہایت بابرکت دور سے گذر رہے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ قریب آ گیا ہے۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھی اس کے جواب میں قدم آگے بڑھائیں۔احمدیوں کی تعداد کو بڑھا ئیں۔احمدیت کو پھیلائیں اور احمدیت کے معیار کو بلند کریں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے جماعت کی دیگر تنظیموں کی نسبت انصار اللہ زیادہ اہم مقام پر ہیں کیونکہ جو پہلا داعی الی اللہ تھا اور جسے خدا نے چنا تھا ، وہ اس عمر میں چنا گیا جو خوش قسمتی سے آپ کی عمر ہے۔کیونکہ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی نبی کا انتخاب کیا تو وہ چالیس سال یا اس سے کچھ اوپر کی عمر کا تھا۔اس طرح آپ اس عمر میں ہیں جو خدا تعالیٰ کی منتخب کردہ عمر ہے۔اس مقصد کے لئے کہ اس کا نام بلند ہو اور اس کا کلام پھیلے اور اس کے لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کو ان الفاظ میں پکاروں جن الفاظ میں حضرت مسیح علیہ السلام نے پکارا تھا کہ مَنْ أَنْصَارِى اِلی اللہ آپ میں سے کون ہے جو میرا مددگار بنے اللہ تعالیٰ کے نام پر۔اللہ تعالیٰ کے کام کے لئے آپ ذمہ داری سے یہ کام کریں اور سال میں کم از کم ایک احمدی بنائیں۔اور اس کے لئے دعا کریں۔اپنے گرد و نواح میں نظر دوڑائیں۔مناسب لوگوں کا انتخاب کریں اور اپنے تجربے کی روشنی میں یہ انتخاب کریں۔اگر راستے میں کوئی مشکل یا روک حائل ہو تو اپنی راہ بدل لیں۔ایک ایسے کیڑے کی طرح جود دیکھ نہیں سکتا لیکن لگا تا رکوشش کرتے کرتے بالآخر منزل کو پالیتا ہے۔کوشش کرتا ہے غلطی کرتا ہے۔پھر کوشش کرتا ہے اور بالآخر منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس میں یہ صلاحیت ودیعت کر دی ہے کہ نہایت بے سروسامانی کی حالت میں ہونے اور عقلی استعدادوں سے بے بہرہ ہونے کے باوجود وہ اپنے مقصد کو حاصل کر لیتا ہے اور اس طرح پر یہ کیڑے مکوڑے لاکھوں سال سے زندہ رہتے چلے آ رہے ہیں۔بلکہ کچھ ایسی انواع بھی ہیں کہ تاریخ میں ان کے وجود کا ریکارڈ سب سے زیادہ پرانا ہے۔تو اگر یہ بے سروسامان کیڑے اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں تو آپ انسان ہو کر بالغ اور سمجھدار انسان جن کو زندگی کی اعلیٰ ترین صلاحیتیں عطاء کی گئی ہیں، کیونکر اپنے آپ کو اس مقصد کو حاصل کرنے کے نا اہل اور کمزور سمجھتے ہیں جس مقصد کا حصول آپ کی زندگی کا نصب العین ہے۔چنانچہ آپ کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ آپ کو اپنی صلاحیتوں کا علم اور احساس ہو جو خدا تعالیٰ نے آپ