تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 74 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 74

۷۴ اور وقت زندگی کے عہد کو کمال خلوص اور مسلسل جذبہ ایثار و قربانی سے نبھایا۔جس کے پیش نظر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا: مرحوم نہایت فدائی اور سلسلہ کے خادم تھے۔آپ ہندوستان کے چوٹی کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس نے اللہ کی خاطر دنیا کی عزت کو ٹھکرایا اور دین کی خدمت کی زندگی قبول کی۔ان کے والد نے ان ساری دنیاوی عزتوں کو تج کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دامن تھاما اور اللہ کی خاطر امیرا نہ ٹھاٹھ باٹھ چھوڑ کر غریبانہ زندگی اختیار کی۔اسی رنگ میں رنگین ہو کر مولانا عبد المالک خان صاحب نے بھی اپنی زندگی دین کی خاطر وقف کی اور اس وقف کے تقاضوں کو خوب نبھایا۔گرمی سردی یا کسی مشکل مصیبت میں بھی خدمت دین کا کوئی موقعہ کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ابھی کل ہی مجھے ملے اور اپنے اس سفر پر جانے کی اجازت مانگی اور خدمت دین کے ایک خاصے طویل سفر کا پروگرام پیش کیا۔میں نے انہیں کہا آپ کی صحت کمزور ہے۔آپ کا پاؤں زخمی ہے۔آپ شوگر کے مریض ہیں۔آپ اتنا سفر نہ کریں۔یہ آپ کی صحت پر بوجھ ہو گا۔مولوی صاحب نے کہا بوجھ کیسا ؟ میں تو خدمت دین پر روانہ ہو کر اتنا خوش ہوتا ہوں کہ دل کھل اٹھتا ہے۔مجھے اجازت دیں کہ میں دینی سفر پر روانہ ہو جاؤں۔میں تو جتنا سفر کرتا ہوں طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جذبے کو قبول کیا اور اسی سفر کی حالت میں اپنے پاس بلا لیا۔“ آپ کی وفات سے سلسلہ عالیہ احمد یہ نہایت مفید اور قیمتی وجود سے مرحوم ہو گیا ہے اور مجلس انصار اللہ ایک بے لوث معاون و مشیر اور قابل فخر اعزازی رکن سے محروم ہوگئی ہے۔پس ہم جملہ اراکین مجلس انصار اللہ مرکز یہ اپنے ایک مجاہد، داعی الی اللہ ، جید عالم دین اور جاں نثار خادمِ دین کے انتقال پر اپنے دلی صدمے اور گہرے قلبی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا صاحب کو اپنے قرب خاص میں جگہ عطا فرمائے۔نیز ہم سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مولانا صاحب کی بیگم صاحبہ، صاحبزادیوں اور دامادوں اور اکلوتے بیٹے مکرم عبدالرب انور محمود خان صاحب کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی امان میں رکھے اور ہمارے شہید بھائی کی جدائی کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق بخشے۔آمین ، (۳۳)