تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 973
۹۷۳ جائے ، اسے بوڑھا سمجھا جاتا ہے۔لیکن میں انصار اللہ کے اجتماعات میں بار بار اس بات کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کے کاموں کا تعلق ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہم اور ٹھوس کاموں کی ذمہ داری اٹھانے کا وقت شروع ہی چالیس سال کی عمر سے ہوتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبوت کی ذمہ داری بھی اپنے بندے پر اس وقت ڈالتا ہے جب وہ چالیسویں سال میں ہو یا اس سے کچھ تجاوز کر چکا ہو اور یہ کوئی منفی بات نہیں ہے بلکہ اس میں یہ پیغام مضمر ہے کہ انتہائی سنجیدہ ، اہم اور ذمہ داری کے کام کے لئے چالیس سال سے زیادہ عمر بہتر ہے یہ نسبت اس سے کم عمر کے۔یہ صحیح ہے کہ خدام جسمانی طور پر زیادہ تنومند ہوتے ہیں اور ان میں کام کرنے کا زیادہ جذ بہ اور جوش خروش پایا جاتا ہے اور وہ زیادہ بھاگ دوڑ کر سکتے ہیں۔چستی سے کام سرانجام دے سکتے ہیں اور زیادہ عمر کے لوگوں میں وہ جوش و جذ بہ نہیں پایا جا تا لیکن پھر بھی خدام تنہا انتہائی اہم اور ذمہ داری کے کاموں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے جب تک وہ ان معمر احباب سے مدد حاصل نہ کریں۔گویا یہ عمر گو بظاہر بڑھا پا لیکن یہ عمر دراصل معاشرے میں زیادہ اہم اور سنجیدہ کاموں کو سرانجام دینے والے طبقہ کی عمر ہے یعنی جو حیثیت جسم میں دماغ کی ہے وہ حیثیت معاشرے میں ان معمر لوگوں کی ہے۔تو اس طرح یہ عمر دوسروں کی راہنمائی کرنے کی عمر ہے۔جہاں تک جسمانی طاقتوں کے انحطاط کا سوال ہے تو میرا خیال ہے کہ چالیس سال کے بعد بھی بہت سے جسمانی امور کی سرانجام دہی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔اگر چہ یہ درست ہے کہ بعض جسمانی طاقت کے امور میں چالیس سال کی عمر سے پہلے ہی تنزل شروع ہو جاتا ہے۔جیسا کہ ورزشی مقابلہ جات ہیں۔ان مقابلہ جات کے ریکارڈ سے تو پتہ چلتا ہے کہ جسمانی طاقت تمیں سال کے آس پاس ہی رو بہ تنزل ہو جاتی ہے اور بہترین نتائج کے لئے تمہیں سال سے کم عمر کا ہونا ہی بہتر ہوتا ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا بلکہ انسان کی جسمانی طاقت در اصل عمر کی دوسری دہائی کے بعد کسی بھی وقت ڈھلنا شروع ہو جاتی ہے اور اپنے عروج کو بھی ہیں اور تمیں سال کی عمر کے درمیان کسی وقت پہنچ جاتی ہے۔لیکن بایں ہمہ ایسے جسمانی مشاغل بھی ہیں جو تمیں سال سے لے کر ساٹھ سال کی عمر تک پوری سرگرمی اور جوش و خروش سے سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ خود کو بوڑھا نہ سمجھیں خود اعتمادی پیدا کریں اور عمر کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں تو آپ خود کو اکثر و بیشتر امور میں جوان محسوس کریں گے۔جب ہم انبیاء کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نوے سال کی عمر تک جوان تھے اور ان کا بیٹا اس وقت پیدا ہوا جب آپ کی عمر نوے سال کی تھی۔اگر چہ قرآن کریم میں اس بات کا ذکر موجود نہیں