تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 687 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 687

۶۸۷ (ب) قاعدہ نمبر ۶ ۸ کی موجودہ صورت یوں ہے: در مجلس شوری کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے اختیارات جزوی یا کلی طور پر کسی سب کمیٹی یا افراد کو عارضی طور پر تفویض کر دے۔ایسی سب کمیٹیوں کی رپورٹ آخری منظوری کے لئے مجلس شوری یا خلیفہ وقت کے پاس پیش ہوگی۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مجلس شوری از خود آخری منظوری دینے کی مجاز ہے اس ابہام کو دور کرنے کے لئے تجویز ہے کہ دیا“ کی بجائے کے توسط سے یا براہ راست کے الفاظ مجلس شوری کے بعد درج کئے جائیں۔اس طرح اس قاعدہ کی ترمیم شدہ صورت یہ ہوگی۔در مجلس شوریٰ کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے اختیارات جزوی یا کلی طور پر کسی سب کمیٹی یا افراد کو عارضی طور پر تفویض کر دے۔ایسی سب کمیٹیوں کی رپورٹ آخری منظوری کے لئے مجلس شوری کے توسط سے یا براہ راست حضرت خلیفہ اسیح کے پاس پیش ہوگی۔“ سفارش شوری : شوری اتفاق رائے سے سفارش کرتی ہے کہ قاعدہ نمبر ۸۶ میں مجوزہ ترمیم کر دی جائے۔سفارش صدر مجلس شوری کی سفارش سے اتفاق ہے۔فیصلہ حضرت خلیفۃ المسیح": حضور نے " کا نشان لگا کر منظوری عطا فرمائی۔بتاریخ ۸۷-۱۲-۵ تجویز نمبر ۲ ( قیادت تربیت): حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارشاد ہے کہ جماعتیں اس سال کو سیرت النبی کے سال کے طور پر گزاریں 66 حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں تجویز ہے کہ - ہر مجلس ۳۱ دسمبر تک کم از کم ایک اجلاس اس موضوع پر منعقد کرنے کا انتظام کرے۔۲ - ناظمین اضلاع اپنے اپنے ضلع میں ایک جلسہ سیرت النبی ضلعی سطح پر منعقد کرنے کا اہتمام کریں۔سفارش شوری: حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کہ ”جماعت اس سال کو سیرت النبی کے سال کے طور پر گزاریں کے پیش نظر مجلس شوری انصار اللہ جملہ مجالس انصار اللہ اور ناظمین اضلاع کو پابند کرتی ہے کہ وہ حضور کے ارشاد کی تعمیل کرنے کے لئے خصوصی کوشش اور جد و جہد کریں۔اور بار بار سیرت النبی کے جلسے منعقد کرنے کا اہتمام کریں۔نیز ایسے جلسے منعقد کرنے کے لئے جماعتی نظام سے پوری طرح تعاون کریں۔سفارش صدر مجلس شوری کی سفارش سے اتفاق ہے۔فیصلہ حضرت خلیفہ اسیح: حضور نے کا نشان لگا کر منظوری عطا فرمائی۔بتاریخ ۸۷-۱۲-۵ تجویز نمبر ۳ ( قیادت مال ) بجٹ آمد و خرچ بابت سال ۱۳۹۷هش/ ۱۹۸۸ء سفارش شوری: شوری حسب ذیل تفصیل کے مطابق مجوزہ بجٹ آمد و خرچ برائے سال ۱۳۶۷ ہش/ ۱۹۸۸ء منظور کئے جانے کی سفارش کرتی ہے۔