تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 683 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 683

۶۸۳ ہنگامی تحریکات کے سوا ) صرف اتنا کیوں نہ رہنے دیا جائے کہ جملہ چندوں کی شرح مقرر کرنے کا اختیار مجلس شوری کو ہوگا“ تجویز نمبر ۴ ( قیادت مال : مجلس انصار اللہ مرکز یہ اشاعت لٹریچر کے متعلق سوال تو کرتی ہے لیکن کبھی مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی طرف سے اتنا لٹریچر مہیا نہیں کیا جاتا جو سال بھر مختلف جگہوں پر تقسیم کیا جاسکے۔اس لئے یہ تجویز ہے کہ مرکز نے جو ایک روپیہ چندہ اشاعت لٹریچر سالانہ رکھا ہوا ہے، اسے تین روپیہ سالانہ کر دیا جائے۔“ ( از نظامت ضلع اوکاڑہ ) سفارش شوری: یکم جنوری ۱۹۸۴ء/۱۳۶۳ ہش سے مجلس انصار اللہ کے ہر رکن کے لیے چندہ اشاعت لٹریچر کی شرح کم از کم تین روپیہ سالانہ ہو۔نیز جوارا کین اس سے زیادہ چندہ ادا کرنا چاہیں ، وہ ایسا کر سکیں گے۔تجویز نمبر ۵: بجٹ آمد وخرچ بابت سال ۱۹۸۴ء/۱۳۶۳ بهش ۹،۶۳،۰۰۰ مبلغ نو لاکھ تریسٹھ ہزار روپیہ شوری حسب ذیل تفصیل کے مطابق بجٹ آمد و خرچ ۱۳۶۳ ہش /۱۹۸۴ء منظور کیے جانے کی سفارش کرتی ہے۔۔آمد ۱۷۴۰۱۲ ۲۴۱۰۰۰ ۱۸۲۰۰۰ ۳۲۵۰۰ ۲۰۴۸۸ ۹۵۰۰۰ ۹۶۳۰۰۰ خرچ عمله سائر گرانٹ مقامی مجالس گرانٹ ناظمین اضلاع ریز روا ضافہ جات دوران سال سالانہ اجتماع اشاعت لٹریچر اخراجات گیسٹ ہاؤس سائر ماہنامہ انصار الله میزان ۶۵۰۰۰۰ ۹۵۰۰۰ ۹۶۳۰۰۰ چنده مجلس سالانہ اجتماع اشاعت لٹریچر عطا یا گیسٹ ہاؤس ماہنامہ انصار الله میزان نوٹ : تجویز نمبرم منظور ہونے کی صورت میں شوری سفارش کرتی ہے کہ اشاعت لٹریچر کا آمد وخرج اٹھارہ ہزار کی بجائے بتیس ہزار روپے اضافہ کے ساتھ پچاس ہزار روپے ہو۔فیصلہ حضرت خلیفہ اسی " : "شوریٰ کی سب تجاویز منظور ہیں۔اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے۔“ دستخط حضور انور ۸۳-۱۱-۲۴