تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 672 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 672

سلسلہ، آپ کے بھائی محترم سید نعیم احمد شاہ صاحب اور ہمشیرہ محترمہ سیدہ ناصرہ بیگم صاحبه نیز جماعت احمد یہ عالمگیر سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ مولا کریم حضرت سیدہ مہر آپا کے درجات اپنے قرب میں بلند سے بلند تر فرماتا رہے۔اے خدا بر تربت او ابر رحمت با بیار بر شہادت صاحبزادہ مرزا غلام قادر احمد صاحب مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کا یہ اجلاس خاندان حضرت اقدس بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ علیہ السلام کے چشم و چراغ ، ابنائے فارس کے درخشندہ ستارے محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر احمد صاحب ابن محترم صاحبزاده مرزا مجید احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی راہ مولیٰ میں قربانی پر اپنے قلبی جذبات کا اظہار کرتا ہے۔محترم صاحبزادہ صاحب نے پاکستان سے انجینئر نگ کی اعلیٰ تعلیم کے بعد جارج میسن یونیورسٹی واشنگٹن امریکہ سے کمپیوٹر سائنس کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی اور پھر زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر دی۔آپ کو جماعت کے مرکزی ادارہ جات میں کمپیوٹر کے نظام کی ترویج کی سعادت حاصل ہوئی اس طرح آپ مرکز سلسلہ میں کمپیوٹر کے نظام کے بانی قرار پاتے ہیں۔صاحبزادہ صاحب موصوف ان ابنائے فارس میں سے تھے جنہیں اپنی اعلیٰ صلاحیتیں دین حق کے لئے نچھاور کرنے کی توفیق ملی۔آپ نے مرکز سلسلہ میں اہم دینی خدمات کا موقع پایا۔مجلس خدام الاحمدیہ میں مہتمم مقامی ، مہتمم مال مہتم تجنید کی حیثیت سے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔لوکل انجمن احمد یہ ربوہ میں سیکرٹری وقف نو کے طور پر خدمت کی توفیق ملی جہاں آپ نے تین ہزار سے زائد نھے منے نو نہالوں کو منظم کیا اور ان کی تعلیمی وتربیتی سرگرمیوں میں بھر پور کردار ادا کیا۔جماعت کی خدمت کرتے ہوئے نہایت فراست، شجاعت اور مومنانہ جرات سے سفاک دشمن کا منصوبہ نا کام کرتے ہوئے مورخہ ۱۴ اپریل ۱۹۹۹ء کو راہ مولیٰ میں جان قربان کر دی۔محترم صاحبزادہ صاحب کا وجود کئی لحاظ سے بڑا مبارک وجود ہے۔آپ کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چوتھی نسل سے تھا۔آپ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کے پوتے اور حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے نواسے تھے۔پھر حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی پوتی اور حضرت میر داؤ د احمد صاحب کی صاحبزادی آپ کے عقد زوجیت میں تھیں۔محترم صاحبزادہ مرزا غلام قادر احمد صاحب کی قربانی بڑی عظمت اور شان کی حامل ہے۔آپ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وہ پہلے وجود تھے جنہوں نے راہ مولیٰ میں جان قربان کرنے کی سعادت پائی۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس قربانی کو اپنے دور کی عظیم الشان قربانی قرار دیا۔نیز اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳ اپریل ۱۹۹۹ء میں ارشاد فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام غلام قادر آئے گھر نور اور برکت سے بھر گیا ( الہام ۲۵ نومبر ۱۹۰۴ء تذکرہ صفحہ ۵۲۲ ) کے آپ ہی مصداق تھے۔