تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 41 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 41

تعداد اراکین کا تعلق ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی نمایاں اضافہ ہے۔اس سال سات سواراکین زیادہ تشریف لائے ہیں۔جہاں تک زائرین کا تعلق ہے اس میں خدا کے فضل کے ساتھ ایک ہزار ایک سواڑ میں اضافہ ہوا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت میں ایک عمومی بیداری کا رجحان ہے۔اور عمومی ولولہ اور جماعتی کاموں میں دلچپسی بڑھ رہی ہے۔کیونکہ جہاں تک انصار کا تعلق ہے لازماً مجلس مرکزیہ کی کوششوں کا اس میں دخل ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول فرمایا اور پہلے سے بہتر حاضری ہوئی۔لیکن جہاں تک زائرین کا تعلق ہے یہ جماعت کے عمومی رجحان کا پتہ دیتا ہے۔پچھلے سال زائرین کی تعداد تین ہزار ایک سوسینتالیس تھی۔اس کے مقابل پر امسال یہ تعداد چار ہزار دوسو پچہتر ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا بہت ہی احسان ہے اور ہم امید رکھتے ہیں اس کے فضلوں سے کہ ہمیشہ ہمیں انشاء اللہ پہلے سے آگے بڑھاتا رہے گا۔جہاں تک سائیکل سواروں کا تعلق ہے اس میں ہمیں ایک بہت ہی نمایاں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔انصار سائیکل سوار اتنی تعداد میں اور اس کثرت سے پہلے کبھی نہیں آئے تھے۔ایک دفعہ ۱۹۷۳ء میں پینتیس انصار سائیکل سوار آئے تھے۔اس کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔کیونکہ یہی سمجھا جانے لگا کہ خدام کا کام ہے کہ وہ سائیکل پر آئیں۔انصار نہیں آسکتے۔پچھلے سال یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا۔گذشتہ سال سیاسی انصار سائیکلوں پر تشریف لائے تھے۔اس کے مقابل پر امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک سوستانوے تشریف لائے ہیں۔۔۔۔کل شام میں نے کھانے کے موقع پر اپنے نہایت مختصر خطاب میں واقعہ سے متعلق وعدہ کیا تھا۔کہ انشاء اللہ کل اس کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔یہ وہ واقعہ ہے کہ جہاں کہیں بھی ہم یورپ میں گئے ہیں خمینی صاحب ساتھ رہے ہیں۔جہاں تک خمینی صاحب کا تعلق ہے وہ ایک معزز قوم کے ایک معزز سردار ہیں۔ان کی عزت اور احترام سب پر فرض ہے۔جس حد تک ظاہری اخلاق اور معاملات کا تعلق ہے ہمیں ہر قومی سردار کی عزت کرنی چاہئیے۔جہاں تک بعض کمزوریوں کا تعلق ہے۔وہ کس قوم میں نہیں ہوتیں؟ بعض لوگ کئی غلط فیصلے کر دیتے ہیں جن کے نتیجے میں بداثرات پیدا ہو جاتے ہیں چنانچہ انہی بداثرات کے نتیجے میں یورپ کی پر یس کا نفرنسوں میں ہر جگہ ثمینی صاحب کا نام لیا گیا۔سارے یورپ میں اور مغربی ممالک میں یہ بھیانک تصویر کھینچی جاتی کہ اس وقت انتہائی ظلم ہو رہا ہے۔اتنا شدید ظلم ہو رہا ہے کہ گویا شاہ کے زمانے کے مظالم اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اور یہ سارا ظلم اسلام کی طرف سے ہورہا ہے۔جس کے نمائندہ اس وقت ثمینی ہیں۔یہ وہ پس منظر ہے جس میں یہ سوال کیا جاتا ہے۔اور مقصدان کا یہ تھا کہ اگر ہم مینی صاحب