تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 36 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 36

۳۶ حضور نے بڑی سختی سے ایسا سوال کرنے سے اپنے وکیل کو روک دیا اور وکیل سٹ پٹا کر رہ گیا۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مہمان نوازی: اللہ تعالیٰ کے مامور اول درجہ کے مہمان نواز ہوتے ہیں۔۔۔۔حضور کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حضور کی خدمت میں حاضر ہؤا۔گرمیوں کا موسم تھا۔میں نے گھروں کی طرف نظر اٹھائی حضور نے فرمایا آپ کو پیاس لگی ہے۔یہ کہہ کر حضور بالا خانہ سے نیچے تشریف لے گئے اور پانی کا گلاس لائے۔پھر فرمایا ذرا ٹھہرئیے۔مجھے یاد آیا۔یہ کہہ کر پھر نیچے تشریف لے گئے اور دو بوتلیں شربت کی لائے۔فرمایا یہ ہمیں تحفہ میں آئی تھیں اور ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلائیں گے۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی سادگی اور بے تکلفی : سادگی اور بے تکلفی بھی مامورین کا ایک خاصہ ہے۔ایک دفعه سخت گرمیوں کے موسم میں حضور سے کسی صحابی نے عرض کی حضور گرمی بڑی سخت ہے حضور کسی پہاڑ پر تشریف لے جائیں۔حضور نے فرمایا ہمارا پہاڑ قادیان ہی ہے۔تربیت اولاد مکرم مولا نا غلام باری سیف صاحب نے اس موقع پر حدیث کا درس دیتے ہوئے فرمایا: تربیت اولاد سے مُراد ان کی پرورش اور تعلیم ہے۔وہ فرد اور قوم خوش قسمت ہے جس کی آنے والی نسل صالح اور اعلیٰ صلاحیتوں کی مالک ہے اور قابل رحم ہے وہ فرد وقوم جس کی آئندہ نسل تربیت یافتہ نہیں۔تربیت کے مفہوم میں پہلے میں پرورش کو لیتا ہوں۔اولاد کی پرورش ماں باپ کا فرض ہے۔حضرت امام بخاریؒ نے اپنی کتاب ادب المفرد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ ابن عمر سے یہ روایت نقل کی ہے: كَمَا اَنْ لِوالدک علیک حقًا کذلِكَ لولَدِکَ عَلَيْكَ حَقٌّ (ادب المفرد باب بر الاب لولده) کہ جس طرح تیرے والد کا تجھ پر حق ہے۔یعنی یہ کہ تو ان کی خدمت اور ادب کرے۔اسی طرح تیرے بچے کا بھی تجھ پر حق ہے کہ تو ان کی پرورش اور تعلیم کا بندوبست کرے۔اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ بچوں کی پرورش نیکی ہے جس کی وجہ سے انسان اللہ کی رحمت اور فضل کا مورد بنتا ہے۔اولا دخدا کی عطا ہے۔اُن کی پرورش خلاق کی نعمت اور احسان کی قدر دانی ہے۔احادیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کی پرورش ماں باپ کا فرض ہے۔اولاد کا رازق بھی وہی خدا ہے جو ہمارا رازق ہے۔اولاد پر خرچ کیجئے۔اُن کی صحت کا خیال رکھئے۔انہیں تعلیم دلائیے کہ ہم اُن کی پرورش کے بارہ میں خدا کے حضور مسئول ہیں۔آب تربیت کے دوسرے مفہوم یعنی تعلیم و تہذیب کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات پیش ہیں۔حضرت ابو ہریرۃ راوی ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔ہاں تین امور ختم نہیں ہوں گے۔صدقہ جاریہ، دوسرے وہ ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اُٹھا ئیں اور نیک اولا د جو ماں باپ کے لئے دُعا کرتی ہے۔یہ امر بچے کے ذہن نشین کرنا