تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 35
۳۵ تم اپنی کثرت پر نازاں نہ ہو۔اسلام غالب آئے گا اور ضرور غالب آئے گا اور کفار مکہ ناکام و نا مرا در ہیں گے اور آپ اور آپ کے صحابہ کرام کا میاب ہو جائیں گے۔قریش مکہ کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولا د فوت ہو جاتی ہے اس لئے آپ کے بعد آپ کا ذکر مٹ جائے گا لیکن خدائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ ابتر نہ ہوں گے بلکہ آپ کی روحانی اولا د اس کثرت سے ہوگی کہ اس کا شمار نا ممکن ہوگا۔خلاصہ اس سورۃ کی تین آیات ہیں۔پہلی آیت۔اِنَّا اَعْطَيْنكَ الْكَوْثَرَ ، میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کا انجام بتایا گیا ہے اور دوسری آیت فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ ، میں آپ کی زندگی کا پروگرام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری بیان کی گئی ہے اور تیسری آیت إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ “ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا انجام ان کی تباہی اور ان کے مقاصد میں نا کامی کا پُر زور اعلان کیا گیا ہے۔سیرت حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ مکرم صوفی محمد الحق صاحب نے سیرت حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ پر مقالہ پیش کرتے ہوئے فرمایا: حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی دینی غیرت: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کثرت فکر و دین و کثرت تحریر وغیرہ کے باعث دورانِ سر کا عارضہ عموماً ہوتا رہتا تھا چنانچہ اس کے پیش نظر دورانِ سر کے ایک ماہر طبیب کو ایک دفعہ قادیان بلایا گیا۔وہ قادیان آیا۔اُس نے حضور کا حال سُنا اور سُننے کے بعد کہنے لگا کہ میں آپ کو فوراً اچھا کر دُوں گا لیکن انشاء اللہ و غیرہ بالکل نہ کہا۔حضور یہ سُن کر اندرون خانہ تشریف لے گئے اور کہلا بھیجا کہ اس کا خرچ اور فیس دے کر اسے واپس بھجوا دیا جائے کیونکہ ہم کسی ایسے شخص سے اپنا علاج نہیں کروا سکتے جو خدائی کا دعویدار ہو۔سبحان اللہ خدا تعالیٰ کے لئے حضور کے دل میں کس قدر غیرت ہے کہ ایک آدمی کو خاص طور پر اپنی بیماری کے لئے دُور سے منگواتے ہیں لیکن جونہی اُس کے منہ سے مشرکانہ کلمات نکلتے ہیں ،حضور اپنی بیماری کو بالکل بھول جاتے ہیں لیکن شرک کو برداشت نہیں کر سکتے اور اُسے بمعہ فیس واپس بھجوا دیتے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ بطور معلم اخلاق فرستادہ بارگاہ جہاں خود صاحب خلق عظیم ہوتا ہے وہاں وہ معلم اخلاق بھی ہوتا ہے۔اس ضمن میں ایک واقعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ہے۔یہ وہ شخص ہے جس نے ملک بھر میں پھر کر دوسو علماء سے حضور کے خلاف فتوی کرایا۔پھر یہ وہی شخص ہے جس نے ببانگ بلند یہ دعویٰ کیا کہ میں نے ہی اس شخص ( یعنی حضرت اقدس) کو اونچا کیا تھا اور میں ہی اسے گراؤں گا۔اس شخص کو ہر وقت کسی موقع کی تلاش تھی کہ جس سے وہ حضرت اقدس کو کسی نہ کسی رنگ میں کوئی زک پہنچا سکے۔چنانچہ مارٹن کلارک والے مقدمہ میں اس نے عیسائیوں کی طرف سے حضرت اقدس کے خلاف شہادت دی۔اس مقدمہ میں حضرت اقدس کے وکیل نے اس پر ایک ایسا سوال کرنا چاہا جس سے اس شخص کی ساری عزت یقیناً خاک میں مل جاتی لیکن حضور کا اخلاق ملاحظہ ہو کہ