تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 512 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 512

۵۱۲ آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی زیر ہدایت ۱۹۳۱ء میں کشمیریوں کی جدو جہد آزادی میں انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں نا قابل فراموش قانونی خدمات سرانجام دیں۔آپ نے ریاست کی عدالتوں میں سینکڑوں مقدمات کی بلا معاوضہ پیروی کی اور سینکڑوں بے گناہ مسلمانوں کو ڈوگرہ راج کی جیلوں سے آزاد کرایا۔ملکانہ کی تحریک میں بھی آپ نے حضرت مصلح موعود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دین کے دفاع میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔آپ کا شمار چوٹی کے وکلاء میں ہوتا تھا۔" آپ فلالو جی ( علم لسانیات) کے عالمی سطح کے ایک معروف سکالر تھے آپ نے حضرت مسیح موعود کے نظریہ عربی۔ام الالسنہ" ہے کو حقائق کی روشنی میں دنیا کی مشہور پینتیس زبانوں کو عربی سے ماخوذ ثابت کر کے دکھایا۔اس علم پر آپ کی تقریباً ایک درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور دنیائے علم میں خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔حضرت شیخ صاحب فارسی اور اردو کے بلند پایہ عالم اور قادر الکلام شاعر تھے اسی طرح آپ کو ہزارہا اشعار بھی ازبر تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی قوت حافظہ سے نوازا تھا۔آپ کو خلفا احمدیت کا قرب اور گہری وابستگی کا شرف حاصل تھا۔۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں جو وفد پیش ہوا ان میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کی ہمراہی کا شرف آپ کو بھی حاصل ہوا۔آپ کی وفات ۲۸ مئی ۱۹۹۳ء کو فیصل آباد میں ہوئی۔ماہنامہ انصار اللہ کو اپریل ۱۹۹۵ء میں آپ پر خصوصی نمبر شائع کرنے کی سعادت ملی۔(۹) وفات مکرم چوہدری محمد شریف صاحب مکرم چو ہدری محمد شریف صاحب ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء کو دار فانی سے کوچ کر گئے۔آپ ۱۲ جنوری ۱۹۱۳ء کو جھنگڑ کلاں ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے آپ نے قادیان سے مولوی فاضل اور جامعہ مبشرین پاس کیا اور آپ کی تقرری سیالکوٹ اور ڈیرہ غازی خان میں بطور مربی ہوئی۔دوران تعلیم اور پھر میدان عمل میں آپ نے کئی کامیاب مناظرے کئے۔ستمبر ۱۹۳۷ء میں آپ کو بلا د عر بیہ جانے کا ارشاد ہوا۔چنانچہ آپ کو لبنان، مصر، شام، عراق اور اردن وغیرہ تمام ممالک میں مسلسل ۷ اسال تک خدمات دینیہ بجالانے کی توفیق ملتی رہی۔آپ عربی رسالہ البشری کے ایڈیٹر بھی رہے اور خود دستی مشینوں کو اپنے ہاتھ سے چلا کر اس رسالہ کو طبع کرتے رہے۔آپ کو دیار غیر میں اپنی پہلی رفیقہ حیات کی جدائی کا صدمہ بھی سہنا پڑا اور ان کی تدفین بھی وہیں ہوئی۔کچھ عرصہ بعد آپ نے ایک معزز فلسطینی خاندان کی احمدی خاتون حکمت عباس عودہ صاحبہ سے شادی کی۔بلا دعر بیہ سے واپسی پر آپ نے بطور مینجر الشرکة الاسلامیہ، مینجر الفضل اور ناظم دارالقضاء خدمت دین کی سعادت پائی۔۱۹۶۱ء میں آپ کو مغربی افریقہ کے ملک گیمبیا میں بطور مربی جانے کا ارشاد ہوا۔آپ