تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 18 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 18

۱۸ افتتاحی اجلاس سید نا حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ۵ نومبر ۱۹۸۲ء کو پونے چار بجے شام احاطہ سالانہ اجتماع میں تشریف لائے جو مسجد اقصی کے صحن میں بنایا گیا تھا۔مجلس عاملہ مرکزیہ نے حضور کا استقبال کیا۔حضور کے پنڈال میں داخل ہوتے ہی سٹیج سے مولانا محمد شفیع صاحب اشرف نے نعرے لگوائے۔تلاوت قرآن مجید مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے کی جس کے بعد حضور نے عہد دہر وایا۔مکرم مبارک احمد صاحب تالپور نے نظم پڑھی۔جس کے بعد حضوراقدس نے افتتاحی خطاب فرمایا جو چونتیس منٹ تک جاری رہا۔﴿۸﴾ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع کا افتتاحی خطاب خدا کی تائید کا زندہ نشان تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا بہت ہی احسان ہے اور اس کی حمد کے گیت گانے چاہئیں کہ وہ جماعت احمدیہ کو مسلسل نیکی کے ہر میدان میں پہلے سے آگے ہی آگے بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ہمارا ہر اجتماع خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پہلے سے زیادہ با برکت اور زیادہ پر رونق ہوتا ہے۔اور ہر اجتماع میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ شامل ہونے والے نئی امنگیں اور نئے ولولے لے کر واپس جاتے ہیں اور ان کا آنے والا سال پچھلے سال سے ہر پہلو سے بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کا یہ ایک ایسا زندہ نشان ہے جسے دنیا کی کوئی مخالفت کبھی بھی جماعت احمدیہ سے چھین نہیں سکی اور کبھی بھی دنیا کی کوئی مخالفت اللہ کی اس نصرت کے نشان کو جماعت احمدیہ سے چھین نہیں سکے گی ہم انشاء اللہ تعالیٰ اسی کے فضل اور اسی کے رحم کے ساتھ ، اسی کی رحمت اور نصرت اور برکتوں کے سایہ تلے آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔اعداد و شمار کے لحاظ سے بعض پہلوؤں سے اگر چہ تعداد میں معمولی سے کمی نظر آتی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مجموعی لحاظ سے خدا کے فضل سے تعداد میں یعنی آج پہلے دن شامل ہونے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔مجالس کی تعداد کی شرکت کا جہاں تک تعلق ہے گذشتہ سال سے یہ شرکت کم ہے۔یعنی سات سو بائیس کے مقابل پر آج جس وقت رجسٹریشن بند کی گئی، اس وقت تک چھ سوا کہتر مجالس شریک ہوئی تھیں۔اور اراکین کی شرکت کے لحاظ سے بھی بہت معمولی یعنی اس کی کمی ہے۔لیکن اس کے مقابل پر زائرین جو رجسٹر ڈ نہیں ہوئے اور اس تعداد میں شامل نہیں، ان کی تعداد گذشتہ سال سے تقریباً نوسو چھیانوے زیادہ ہے۔ایک پہلو سے جو معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل