تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 355 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 355

۳۵۵ خدمات کی توفیق پائی۔آپ کی نماز جنازہ حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب امیر مقامی نے پڑھائی۔آپ کو ۲۰ ستمبر ۱۹۹۰ء کو بہشتی مقبرہ میں سپردخاک کر دیا گیا۔آپ کی وفات پر مجلس انصار اللہ پاکستان نے مندرجہ ذیل قرار داد پاس کی۔مجلس انصار اللہ پاکستان کی مرکزی عاملہ کا اجلاس حضرت اقدس بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ کے پوتے ، حضرت مصلح موعود کے فرزند ارجمند، جماعت احمدیہ کے ایک نہایت فعال اور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار، نافع الناس شخصیت حضرت ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کی وفات حسرت آیات پر گہرے دکھ اور غم وحزن کا اظہار کرتا ہے۔محترم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۹۰ء صبح تقریباً نو بجے ربوہ میں بعمر بہتر سال وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ محترم ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے ڈاکٹری کی پیشہ ورانہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد زندگی وقف کرنے کی سعادت پائی اور اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ ایک مثالی واقف زندگی کے طور پر گزار کر دکھی انسانیت کی جس طرح بے لوث خدمت کی وہ تاریخ کا ایک قابل قدر باب ہے۔فضل عمر ہسپتال میں اڑتیس سال خدمت بجالانے کی توفیق ملی جس میں چوبیس سال بطور چیف میڈیکل آفیسر آپ نمایاں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ربوہ کی تعمیر و ترقی کے کام کرنے والوں میں سے آپ بنیادی ارکان میں سے ہیں۔اولین سیکرٹری ٹاؤن کمیٹی کی حیثیت سے آپ نے ربوہ کو آباد کرنے میں نمایاں کردارادا کیا۔تاریخ احمدیت کے نازک موڑ پر جب دشمن نے حضرت مصلح موعود پر بیت المبارک میں قاتلانہ حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا اور اس حملہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی طویل بیماری کے دوران جس طرح دن رات ایک کر کے محترم ڈاکٹر صاحب موصوف نے حق خدمت ادا کیا وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔نیز ۱۹۵۵ء کے یورپ کے دورے میں آپ کو حضرت مصلح موعود کی معیت اور مرافقت کا شرف حاصل ہوا۔اسی طرح آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے معالج کے طور پر بھی خدمت کی سعادت نصیب ہوئی۔محترم صاحبزادہ صاحب موصوف نے خلافت ثانیہ کے بابرکت دور میں تنظیم خدام الاحمدیہ کے نائب صدر کے طور پر سالہا سال نو جوانوں کی تربیت کے میدان میں مدبرانہ قیادت فرمائی بعد ازاں مجلس انصار اللہ مرکزیہ میں ۱۹۶۲ ء تا ۱۹۶۹ء بطور قائد ایثار، ۱۹۷۰ء تا ۱۹۷۸ء بطور قائد ذہانت و صحت جسمانی اور ۱۹۷۹ ء تا دم واپسیں بطور رکن خصوصی خدمات دینیہ کی توفیق پائی۔آپ دعا گو اور عبادت گزار بزرگ تھے۔یقیناً آپ کی وفات سے جماعت میں