تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 347 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 347

۳۴۷ قائم ہوا۔ایک نیا درجہ ظاہر ہوا جو رفعت میں پہلے سے بلند تر تھا اور اس طرح شعوری دماغ اپنے پیچھے ایک نظام کا ایک جلوس چھوڑتا چلا گیا۔یہاں تک کہ انسان کے درجے تک پہنچتے پہنچتے یہ اتنا وسیع نظام ہو چکا ہے کہ اگر آپ کو اس نظام کے ایک معمولی سے حصے کے متعلق بھی میں پوری معلومات حاصل کرنے کے بعد بتانا شروع کروں تو بیسیوں خطبے گذر جائیں گے لیکن وہ ذکر مکمل نہیں ہو گا۔حیرت انگیز نظام ہے اور آخر پر ایک ہی دماغ ہے۔ایک ہی شعور ہے جو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب کا آخری نگران ہے اور ہے بھی آخری نگران۔لیکن از خود کام ہوتے چلے جارہے ہیں۔ہمارا سارا جو نظام ہے پیدائش کا نظام، سانس لینے کا نظام انہضام کا نظام، بے شمار نظام ہیں ، گردوں کا کام کرنا اور کئی قسم کے تیزابوں اور زہروں کے جسم سے نکالنے کا نظام، دفاع کے مختلف نظام ، ان میں سے ہر نظام کا ہر حصہ اتنا پیچیدہ اور اتنا توجہ کا محتاج ہے کہ ناممکن ہے کہ بغیر توجہ کے یہ خود بخود کام کرے لیکن مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ یہ توجہ رفتہ رفتہ ایک ایسے نظم و ضبط کی شکل اختیار کر گئی جس کو ہم غیر شعوری دماغ کہتے ہیں اور اس لمبے عرصے کی کمائی کا نتیجہ ہے کہ یہ نظام جاری ہے۔یہ سوچتے ہوئے میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ایک عظیم الشان دلیل ہے۔اگر انسانی زندگی کے تجربے میں بھی یہ ناممکن ہے کہ لمبے عرصے کی شعوری کوشش کے بغیر کوئی نظام جاری رہ سکے تو ساری کائنات کا جو نظام چل رہا ہے، یہ غیر شعوری کوشش کے بغیر کیسے ہو گیا۔اس لئے جو خود بخود چل رہا ہے، جس طرح ہمارے جسم میں خود بخود چلنے والا نظام بھی ارب ہا ارب سال پہلے شعوری طور چلایا جا رہا تھا۔ورنہ از خود چلنے کی اہمیت اس میں پیدا ہو ہی نہیں سکتی تھی۔اسی طرح ساری کائنات کا نظام بھی جواز خود چلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے بہت ہی لمبے عرصے تک شعوری پر چلا یا گیا ہے اور اس شعور نے آگے پھر سلسلہ مختلف درجے اختیار کر لئے ہیں اور سلسلہ وار اس کا آخری درجہ خدا سے ملتا ہے۔اور یہ سا وار شعوری نظام یا اگر انسانی اصطلاح میں بات کریں تو بعض پہلو سے غیر شعوری بھی اس کو کہہ سکتے ہیں یہ جو جاری ہوا ہے ان سلسلوں کا نام فرشتے ہیں اور بے شمار فرشتے ہیں جو اس کام کو سلسلہ وار چلاتے چلے جا رہے ہیں اور پھر خدا تک ان کا تعلق ہے اور وہ آخری فرشتہ جو اس نظام میں سب سے بلند مرتبہ رکھتا ہے اور خدا سے تعلق رکھتا ہے۔اس فرشتہ کا نام ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے یا بعض جگہ ذکر ملتا ہے اور تفصیل سے نام نہیں ملتا۔لیکن یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ قرآن کے مطالعہ سے اور حدیث کے مطالعہ سے بھی کہ ایسے فرشتے ہیں جو نظام کی ہر تفصیل کی آخری رپورٹ خدا کے حضور پیش کر رہے ہوتے ہیں۔پس نظام کا بڑا ہونا فی ذاتہ کوئی چیز نہیں ہے، کوئی بوجھ نہیں ہے۔اس نظام کا صحیح ہونا ضروری ہے۔اگر نظام صحیح ہو جائے اور چل پڑے تو