تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 304 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 304

۳۰۴ تجاویز پر شوری کے فیصلہ کی تعمیل میں محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ پاکستان نے جو رپورٹ بھجوائی اس میں تجویز کیا کہ احمدی خواتین کی تربیت کے سلسلہ میں اور اس ضمن میں آنے والی دقتیں دور کرنے کے لئے مجلس لجنہ اماءاللہ پاکستان مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان، مجلس انصاراللہ پاکستان اور اصلاح وارشاد پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کر دی جائے جو ایک دوسرے کو اپنی مساعی اور مشکلات سے آگاہ کرتی رہے۔اس سے بہتر نتا ئج نکل سکتے ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے ان اداروں پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل کی منظوری عطا فرمائی۔جس پر مکرم وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید نے ۱۲ اگست ۱۹۹۰ء کو صدر محترم کوتحریر کیا کہ اس کمیٹی میں مجلس کے نمائندہ کا نام تجویز کریں۔صدر محترم نے مکرم پر و فیسر محمد اسلم صابر صاحب قائد تربیت کو مجلس انصار اللہ کا نمائندہ مقرر کیا۔التواء سالانہ اجتماع ۱۹۸۹ء مجلس انصار اللہ ۱۹۸۹ ء جیسے تاریخی سال میں بھی حکومت کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے اپنا سالانہ اجتماع منعقد نہ کر سکی۔مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کو اس سے قبل ضلعی انتظامیہ نے اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی اجازت دی تھی اور یہ اجتماع شروع بھی ہو گیا جس سے یہ اُمید ہو چلی تھی کہ انصار کو بھی اپنا اجتماع کرنے کی اجازت مل جائے گی۔مگر افسوس اجتماع خدام کے دوسرے ہی روز حکومت نے چند شر پسند عناصر کے دباؤ میں آکر یہ اجازت منسوخ کر دی۔سالانہ اجتماع انصار اللہ کے سلسلہ میں دی گئی درخواست پر ضلعی انتظامیہ کوئی فیصلہ کرنے میں متامل تھی۔مندرجہ بالا صورتحال میں مجلس نے اپنا سا لا نہ اجتماع ملتوی کر دیا۔صورتحال کی وضاحت کے لئے محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نائب صدر مجلس کی طرف سے مندرجہ ذیل اعلان ماہنامہ انصار اللہ اور روزنامہ الفضل میں شائع کیا گیا۔” جیسا کہ احباب جماعت کے علم میں آچکا ہے کہ ضلعی انتظامیہ جھنگ نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع ربوہ میں منعقد کرنے کی اجازت دے دی تھی۔یہ اجازت ڈپٹی کمشنر جھنگ نے مقامی پولیس ربوہ ، ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ، اسٹنٹ کمشنر چینوٹ اور سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع جھنگ سے رپورٹیں لینے اور پوری تحقیق و تفتیش کے بعد دی تھی لیکن اس اجتماع کے دوران ہی چند ملاں صاحبان کے کہنے پر اس اجازت کو منسوخ کر دیا۔مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے اجتماع کی درخواست ابھی تک زیر کاروائی ہے جبکہ اجتماع کے مجوزہ انعقاد میں بہت تھوڑا وقت باقی رہ گیا ہے اور گزشتہ اجتماع کا تجربہ یہ ہے کہ اجازت دینے کے باوجود اور پاکستان کے طول و عرض سے خدام کے ربوہ پہنچ جانے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اپنی دی ہوئی اجازت واپس لے لی۔ان حالات میں جب تک حکومت کی طرف سے پختہ تحریری اجازت نہ مل جائے اجتماع منعقد نہیں کیا جا سکتا۔لہذا اعلان کیا جاتا ہے کہ