تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 300
دشمن کے حقوق کو مساوی میزان سے تو لتا ہے۔جماعت احمد یہ ایمان رکھتی ہے کہ یہی دین ہے جو صلاحیت رکھتا ہے کہ آج تمام اقوامِ عالم کو ایک ہاتھ پر جمع کرے اور توحید کی لڑی میں پرودے۔پس میں اس اہم اور مبارک موقعہ پر بحیثیت امام جماعت احمدیہ عالمگیر روئے زمین پر بسنے والے اپنے تمام انسان بھائیوں کو اسی دینِ امن اور دینِ توحید کی طرف دل کی گہرائی اور پُر خلوص جذبہ اخوت کے ساتھ بلاتا ہوں۔ہر چند کہ احمدیت بادی النظر میں ابھی ایک ایسی قوت کے طور پر نہیں اُبھری جو ایک عالمی انقلاب بر پا کرنے کی قدرت رکھتی ہو لیکن ہر صاحب بصیرت یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ گذشتہ ایک سو سال میں شدید مخالفتوں کے باوجود اس جماعت کی حیرت انگیز عالمی ترقی کوئی ایسا معمولی واقعہ نہیں جسے نظر انداز کیا جاسکے۔اس عرصہ میں جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دُنیا کے ایک سو بیس ممالک میں قائم اور مستحکم ہو چکی ہے اور اس کی ترقی کی رفتار لحظہ بہ لحظہ تیز سے تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے اور اس جماعت کے حق میں وہ سب کچھ رُونما ہو رہا ہے جس کا ایک سو سال پہلے انسانی تخمینوں کے لحاظ سے کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔پس یقیناً وہ خدا کی ہی آواز تھی جس نے اس جماعت کے مستقبل کے بارہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کو ان الفاظ میں خبر دی : میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ انہی الہی بشارات سے روشنی اور قوت پا کر بانی سلسلہ احمدیہ نے بنی نوع انسان کو یہ عظیم خبر دی کہ: قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دُنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے۔جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مُشتِ خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ہر ایک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں ؟ کیا وہ زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں؟“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۳ )